افغانیوں کو پاکستانی بنا کر سعودیہ بھیجنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پاکستان سے بڑی تعداد میں افغان باشندوں کو پاکستانی پاسپورٹ پر خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب بھجوانے والے ایک نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے جس کے سرغنہ کا نام ایوب ہے اور وہ کراچی کی سنیری ٹریول ایجنسی کا مالک ہے، بتایا جاتا ہے کہ افغانستان سے خلیجی ریاستوں اور دیگر کئی ممالک جانے کے لیے افغان باشندوں کی بڑی تعداد جعلی پاکستانی دستاویزات بنواتی ہے اور امیگریشن حکام کی ملی بھگت کے ساتھ باہر نکل جاتی ہے۔
پاکستانی اداروں پر یہ انکشاف تب ہوا جب کچھ سال پہلے مغربی ممالک اور مشرق وسطٰی میں تارکین وطن کے خلاف پابندیاں سخت ہوئیں اور انہوں نے غیر قانونی تارکین کو انکے ممالک واپس بھجوانا شروع کر دیا۔جب پاکستانی تارکین وطن کے جہازوں کے جہاز بھر کر آئے اور پاکستانی حکام نے واپس آنے والے افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ ان میں بیشتر پاکستانی نہیں بلکہ افغان باشندے ہیں۔ اس کے بعد پاکستانی اداروں نے غیر ملکیوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈوں پر کنٹرول سخت کرنا شروع کیا اور جعلی دستاویزات کی تیاری کے خلاف نگرانی میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی پاکستان میں جعلی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تیاری اور ان پر لوگوں کو باہر بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے۔
تاہم 24 دسمبر کو ایف آئی اے کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ پر سعودی عرب جانے کی کوشش میں کراچی ایئر پورٹ پر تین افغان باشندوں کو گرفتار کیا تو اس غیر قانونی دھندے میں ملوث سرغنہ کا بھی پتہ چل گیا۔ جب ان مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے بعد ان کی تلاشی لی گئی تو ان سے افغان شناختی کارڈ اور پاسپورٹس بھی برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزمان میں حمید اللّٰہ، سید اللّٰہ اور محمد سلیم شامل ہیں۔ جب انہیں گرفتار کر کے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل کراچی کے حوالے کیا گیا تو مزید حقائق سامنے آئے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے میں تو سنیری ٹریول ایجنسی کا مالک ایوب ملوث تھا لیکن اس گندے دھندے میں ایف آئی اے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے لوگ بھی ملوث تھے جو پیسے لے کر افغان شہریوں کو بیرون ملک جانے دیتے تھے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی دستاویزات پر افغان شہریوں کو پاکستانی بنا کر بیرون ملک بھجوانے کے نیٹ ورک میں بھارتی خفیہ ایجنسی رإ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی ملی بھگت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہذا اس نیٹ ورک میں ملوث تمام کرداروں اور اداروں تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا داٸرہ کار مزید وسیع کرنا ہوگا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سنیری ٹریول ایجنسی اور اس جیسی دیگر کئی ٹریول ایجنسیوں کی رساٸی ایف آٸی اے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی کالی بھیڑوں تک ہے جو چند ہزار روپوں کی خاطر اس بھیانک نیٹ ورک کا حصہ بنے ہوۓ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جعلی دستاویزات کی تیاری کا نظام ملک میں ایک مربوط طریقے سے کام کرتا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق یوں تو تقریباً تمام بڑے شہروں میں کوئی نہ کوئی ایجنٹ اس طرح کی سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے لیکن اس کا ایک بڑا گڑھ خیبر پختونخوا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں 11 لاکھ 41 ہزار افغان مہاجرین مقیم ہیں جو پورے ملک میں افغان مہاجرین کا 59 فیصد بنتا ہے۔
افغان کمشنریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 34 ہزار381 افغان مہاجرین کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ موجود ہے جبکہ 3 لاکھ 7 ہزار 647 مہاجرین افغان سٹیزن کارڈ یعنی افغان شہری کا کارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ صوبے میں مختلف مقامات پر افغان مہاجرین کے لیے 43 کیمپس قائم ہیں مگر زیادہ تر افغان باشندے شہری علاقوں کی طرف منتقل ہو چکے ہیں اور کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین بیرون ملک سفر میں مشکلات کی وجہ سے پاکستان کا جعلی پاسپورٹ بنوا کر جاتے ہیں، یہ پاسپورٹ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جس کے ذریعے مہاجرین بالخصوص نوجوان خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر ممالک سفر کرتے ہیں۔ ایف آئی اے کے ایک ذمہ دار افسر نے بتایا کہ پاکستانی ایجنٹ 8 سے 10 لاکھ روپے کے عوض افغان مہاجرین کو جعلی پاسپورٹ بنا کر دیتے ہیں۔ قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے جعل سازوں نے اب پاسپورٹ پر ٹیمپرنگ بھی شروع کر دی ہے یعنی پاسپورٹ پر معلومات ٹھیک درج ہوتی ہیں، صرف تصویر بدل کر اس پر جعلی مہر لگائی جاتی ہے۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ رواں سال اکتوبر کے مہینے میں پشاور سے 23 افغان مہاجرین گرفتار کیے گئے جن سے جعلی دستاویزات برآمد ہوئیں۔ اسی کارروائی کے دوران تین اور ایجنٹ بھی گرفتار ہوئے جو ان مہاجرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کروا کے دے رہے تھے۔ ان ایجنٹوں اور جعلی دستاویزات تیار کروانے کے خواہش مند افراد کی نشاندہی پر 15 ٹریول ایجنسیوں کے مالکان کو بھی گرفتار کیا گیا جو جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کروانے اور ان پر افغان مہاجرین کو بیرون ملک بھجواتے تھے۔ ایف آئی حکام کے مطابق ملزمان سے جعلی پاسپورٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے اب تک ہزاروں افغان باشندے پاکستانی دستاویزات پر سعودی عرب جا چکے ہیں۔ ریاض میں موجود افغان سفارت خانے کے حکام کے مطابق، سعودی عرب میں کام کرنے والے افغان مزدوروں میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی پاسپورٹ کے حامل ہیں۔ ریاض میں قائم افغانستان سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ان مزدوروں کو افغان پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل شروع ہے تا کہ انہیں واپس افغانستان بھجوایا تھا۔
افغان سفارت خانے کے مطابق، جن افغانوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا اور اپنے ملک کا سفر نہیں کر سکتے تھے، ان کے لئے افغانی پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
