لیاری کے انڈر ورلڈ ڈان ارشد پپو کی زندگی اور موت کی کہانی

 

 

 

 

کراچی کے قدیم علاقے لیاری کی تنگ گلیوں میں جنم لینے والی ایک کہانی ایسی بھی ہے جو محض جرائم کی روداد نہیں بلکہ طاقت، دوستی، دھوکہ دہی، انتقام اور خونریزی کی مکمل داستان ہے۔ یہ کہانی ہے لیاری کے انڈر ورلڈ ڈان ارشد پپّو کی۔ ارشد پپو ایک ایسا نام جو کبھی لیاری کی گلیوں میں خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر اس انڈر ورلڈ ڈان کا انجام ایسا ہوا کہ ہجوم کے ہاتھوں بے بسی اور سفاکیت کی بدترین مثال بن گیا۔ لیاری گینگ وار کے اس مرکزی کردار کی زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح غربت، ریاستی کمزوری، جرائم پیشہ ماحول اور سیاسی مفادات مل کر ایک انسان کو طاقت کے نشے میں اندھا اور پھر اسی انجام تک لے جاتے ہیں جس سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

 

ارشد پپّو کی کہانی دراصل لیاری کی کہانی ہے۔ایک ایسا علاقہ جو دہائیوں سے غربت، محرومی اور جرائم کی لپیٹ میں رہا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں یہاں مختلف جرائم پیشہ گروہوں نے اپنی اپنی عملداری قائم کر رکھی تھی۔ انہی حالات میں 1972 میں پیدا ہونے والا ارشد پپّو ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں جرم محض ایک راستہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بن چکا تھا۔ اس کے والد حاجی لالو خود ایک بااثر گینگ لیڈر تھے، یوں پپّو کو بچپن ہی سے جرم کی دنیا ورثے میں ملی۔والد کی سرپرستی میں پپّو نے کم عمری میں ہی طاقت، تشدد اور غلبے کی سیاست سیکھ لی۔

 

ابتدائی دور میں ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت کی دوستی لیاری کی انڈر ورلڈ میں ایک مضبوط اتحاد کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ دونوں نے مل کر جرائم کو منظم انداز دیا اور لیاری سے باہر کراچی کے دیگر علاقوں تک اپنے نیٹ ورک کو پھیلا دیا۔ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، منشیات کی سمگلنگ اور ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم ان کے لیے روزمرہ کا معمول بن گئے۔ وقت کے ساتھ ان کا دائرہ اثر اس حد تک بڑھ گیا کہ مقامی سطح پر سیاسی اور سماجی فیصلے بھی ان کی مرضی سے ہونے لگے۔

 

تاہم، طاقت کی یہی شراکت داری زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ پیسے کی تقسیم، اثر و رسوخ کی جنگ اور ذاتی مفادات نے اس مضبوط دوستی کو دشمنی میں بدل دیا۔ خاص طور پر فیض محمد عرف فیضو ماما کے بہیمانہ قتل نے دونوں گروہوں کے درمیان ایک ناقابلِ واپسی خلیج پیدا کر دی۔ اس واقعے کے بعد لیاری دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ارشد پپّو اور اس کے حامیوں کا ایک گروپ بن گیا جبکہ رحمٰن ڈکیت اور اس کے ساتھیوں نے اپنا علیحدہ گروہ بنا کر ایک دوسری پر وار کرنے شروع کر دئیے۔ دونوں گروپوں کی دشمنی صرف گینگ وار تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے خاندانوں، محلّوں اور یہاں تک کہ عام شہریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 

لیاری گینگ وار کے اس دور میں تشدد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ قتل، اغوا، لوٹ مار اور انتقامی کارروائیاں معمول بن گئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس خونی جنگ میں ہزاروں افراد جان سے گئے۔ دونوں گروپوں میں دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ مخالفین کے خاندانوں اور قبروں تک کو نشانہ بنایا گیا۔ ریاستی اداروں نے بھی ان حالات میں خاموشی اختیار کئے رکھی جس سے علاقے میں حالات مزید بگڑتے چلے گئے۔

 

2009 میں رحمٰن ڈکیت کی ہلاکت کے بعد بظاہر یہ تاثر پیدا ہوا کہ ارشد پپّو کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ رحمٰن ڈکیٹ کے بعد اس کا جانشین عزیر بلوچ ایک نئے اور زیادہ منظم خطرے کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم کیا بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت ارشد پپّو کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی۔ بالآخر 16 مارچ 2013 کی رات وہ موڑ آیا جس نے اس کہانی کا انجام لکھ دیا۔ ارشد پپّو کو ایک مبینہ منصوبہ بندی کے تحت کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس گرفتاری میں بعض پولیس اہلکاروں اور رحمٰن ڈکیٹ گینگ کی ملی بھگت بھی شامل تھی۔ اسی لئے ارشد پپو کو مبینہ گرفتاری کے بعد لیاری منتقل کیا گیا جہاں ایک مشتعل ہجوم پہلے سے اس کا منتظر تھا۔ایسا ہجوم جو برسوں سے ارشد پپو کے ظلم، خوف اور نفرت کا بوجھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ ارشد پپو کی لیاری تھانے میں منتقلی کے بعد پیش آنے والا واقعہ انسانی تاریخ کے بدترین ہجومی تشدد کی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بیہمانہ کارروائی میں ارشد پپّو، اس کے بھائی اور ایک ساتھی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گلیوں میں گھسیٹا گیا، ان کے جسم کے اعضا کاٹے گئے اور آخرکار انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کی لاشوں کو مسخ کر کے جلا دیا گیا اور باقیات تک مٹا دی گئیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک شخص کے خاتمے کی علامت تھا بلکہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ جب قانون کی عملداری ختم ہو جائے تو معاشرہ کس قدر بے قابو ہو سکتا ہے۔

سہیل آفریدی کی بغاوت، اچکزئی مشاورتی عمل سے مکمل آؤٹ

ارشد پپّو کی موت کے بعد بھی لیاری میں امن مکمل طور پر بحال نہ ہو سکا۔ ارشد پپّو کی موت محض ایک شخص کا انجام نہیں تھا بلکہ پپو کی ہلاکت لیاری گینگ وار کے ایک باب کے خاتمے کے بعد دوسرے کا آغاز ثابت ہوئی اور دو گروپوں کی لڑائی اگلی نسل کو منتقل ہو گئی  اور اب یہ دشمنی صرف افراد تک محدود نہ رہی بلکہ خاندانوں، محلّوں اور نسلوں تک پھیل چکی ہے۔ آج بھی لیاری میں اس خونی تاریخ کے اثرات موجود ہیں۔ اگرچہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں، مگر گینگ وار کی یادیں، اس کے کردار اور اس کے زخم آج بھی زندہ ہیں۔

Back to top button