سہیل آفریدی اور محمود اچکز کی آمنے سامنے کیوں آگئے؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بغاوت کر دی۔ عمران خان کے واضح احکامات کے باوجود سہیل آفریدی نے عملاً اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو پارٹی حکمت عملی سے مائنس کر دیا اور ان کی مشاوت کے بغیر ہی کشمیر اور لاہور میں سیاسی جلسے کرنے کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کی احتجاجی اور سیاسی سرگرمیوں کی باگ ڈور محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سپرد کی تھی، اور پارٹی قیادت کو واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ احتجاج کے حوالے سے تمام فیصلے انہی کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ ابتدا میں سہیل آفریدی بھی اسی پالیسی کے حامی نظر آئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے طرزِ سیاست میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی اور اب انھوں نے عمران خان کے احکامات کے برخلاف بغیر مشاورت کے کشمیر اور پنجاب میں سیاسی جلسے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاست ایک بار پھر اندرونی کشمکش اور قیادت کے بیانیے کے تضادات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے کشمیر اور لاہور کے دوروں اور جلسوں کے اعلانات نے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے بلکہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی مزید واضح کر دیا ہے۔ یہاں اہم سوال یہی ہے کہ کیا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو واقعی پارٹی کے فیصلوں سے باہر کر دیا گیا ہے یا محض وقتی سیاسی حکمت عملی کے تحت انھیں سیاسی مشاورت سے آؤٹ کیا گیا ہے؟
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس احتجاج اور جلسوں کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے۔ تاہم کچھ عرصے سے سہیل آفریدی نے انہیں بائی پاس کرتے ہوئے بغیر مشاورت احتجاج اور جلسے جلوس شروع کر رکھے ہیں جس پر محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کچھ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وقت محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت کے مابین اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جن کی بڑی وجہ عمران خان کے لیے احتجاج، جلسوں اور اسمبلی میں مؤثر آواز نہ اٹھانے کے شکوے بھی شامل ہیں۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم پی ٹی آئی کانوجوان گروپ محمود خان اچکزئی سے زیادہ خوش نہیں ہے اور ان پر حکومتی حمایت کی سیاست کا الزام لگارہا ہے۔ پارٹی کی اندرونی میٹنگز میں بھی محمود خان پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ عمران خان نے اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا لیکن انہوں نے اب تک عمران خان کی رہائی کیلئے کیا کیا ہے؟
پارٹی میں محمود اچکزئی کے خلاف آوازیں بلند ہونے کے بعد حالیہ دنوں میں سہیل آفریدی نے یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے کیے جن میں نہ تو محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی کسی مشترکہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا۔ راولپنڈی جلسے کا اعلان ہو یا مردان میں متبادل جلسہ،ہر مرحلے پر مشاورت کا فقدان نمایاں رہا۔ یہی نہیں، اب کشمیر کے لال چوک مظفرآباد میں جلسہ اور مئی کے پہلے ہفتے میں لاہور کے مینار پاکستان پر ممکنہ پاور شو کا اعلان بھی اسی تسلسل کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔ ان جلسوں کے حوالے سے بھی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی یا علامہ ناصر عباس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر ایک واضح تقسیم ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ ایک طرف وہ قیادت ہے جو پارلیمانی سیاست اور تدریجی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، جس کی نمائندگی محمود خان اچکزئی کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب نوجوان قیادت ہے جو سڑکوں پر احتجاج، دھرنوں اور عوامی دباؤ کے ذریعے فوری نتائج چاہتی ہے جس کی قیادت اب سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان عمران خان کی رہائی کے معاملے پر قیادت کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندرجارحانہ حکمت عملی کیلئے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے اب سہیل آفریدی نے بغیر مشاورت کشمیر اور لاہور میں جلسوں کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم اس ساری صورتحال کا دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بظاہر ان اختلافات کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن زمینی حقائق اس بیانیے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر جب محمود خان اچکزئی نہ صرف مردان جلسے سے غیر حاضر رہے ہیں بلکہ انھوں نے کشمیر کے اہم جلسے میں بھی شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران اور امریکہ کی جنگ نے عمران خان کو فارغ کیسے کر دیا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال محض شخصیات کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی حکمت عملیوں کی جنگ ہے۔ ایک طرف مفاہمت اور پارلیمانی راستہ ہے جبکہ دوسری طرف مزاحمتی اور عوامی دباؤ کی سیاست ہے۔ سہیل آفریدی بظاہر ملک گیر تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ محمود خان اچکزئی اس انداز سیاست سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اپوزیشن لیڈرز کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں اسی وجہ سے پہلے مرحلے میں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مشاورتی عمل سے آؤٹ کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں جلد یا بدیر انھیں اپوزیشن لیڈرز کے عہدوں سے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔
