ایران کی پاکستان میں امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ ملاقات کے منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کی صورتحال بھی زیر غور آئے گی۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے کیے گئے جارحانہ اقدامات کے خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی جیسے اہم نکات شامل ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی سطح پر براہ راست ملاقات طے نہیں ہے، تاہم ایرانی وفد پاکستان کو اپنے مؤقف اور مشاہدات سے آگاہ کرے گا۔

دوسری جانب اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود رابطہ کر کے بالمشافہ ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کی زیادہ تر گفتگو براہ راست ایک دوسرے کے بجائے پاکستانی حکام کے ذریعے ہوگی۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے سے جاری ڈیڈ لاک اب ختم ہونے کے قریب ہے اور مذاکرات کا ایجنڈا محدود مگر اہم نکات پر مشتمل ہے، جن پر پیش رفت متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا سے آنے والے وفود بڑے نہیں ہوں گے اور ان کا فوکس زیادہ تر پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطوں پر ہوگا۔

Back to top button