امن مذاکرات: ایرانی وزیر خارجہ کی رات گئے پاکستان آمد

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں سے وہ اپنے اگلے مرحلے میں ماسکو اور مسقط کا دورہ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہے اور مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، اہم پیش رفت اور امن و استحکام کے لیے جاری اقدامات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

روانگی سے قبل عباس عراقچی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے بروقت دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جن کا مقصد شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کرنا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون، رابطوں اور سفارتی روابط کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق اس دورے میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشاورت بھی شامل ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جبکہ امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہے۔ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کا اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل اور بامعنی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پاکستان نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو اہم قرار دیا، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

Back to top button