دنیا کے طاقتور ترین صدر کو پاکستانی مدد کی ضرورت کیوں ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے غلط فیصلے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا اب آسان نہیں، اور حالات یہ ہیں کہ دنیا کی سب سے طاقتور سپر پاور کو پاکستانی مدد کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
اپنے ٹی وی پروگرام میں امریکہ اور ایران جنگ کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ پاکستان اس بات کی علامت ہے کہ تہران اسلام آباد کو ایک ممکنہ سفارتی پل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان کے بقول ایران امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں پیش رفت کے لیے علاقائی قوتوں، خاص طور پر پاکستان، عمان اور روس کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ سیٹھی کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ دباؤ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے، جو نہ صرف اندرونی سیاسی چیلنجز بلکہ عالمی اقتصادی حالات کے باعث بھی پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کہنے پر ایران کے ساتھ ایسا غیر ضروری پنگا لے لیا جس نے نہ صرف ان کے اقتدار کو بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک گہرے سیاسی بھنور میں پھنسنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران جنگ بارے بار بار اپنا موقف تبدیل کر رہے ہیں تاکہ عالمی سٹاک مارکیٹس کو سہارا دیا جا سکے، لیکن یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک کارگر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو دو بڑے فوری دباؤ کا سامنا ہے۔ پہلا دباؤ وہ 60 روزہ جنگ کی مہلت ہے جو اب ختم ہونے کے قریب ہے، جس کے بعد انہیں کانگریس سے دوبارہ جنگ کے فیصلے کی توثیق کروانا پڑے گی۔ دوسرا دباؤ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار ہوتی قلت کا ہے، جس نے نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور وہ ٹرمپ پر جلد از جلد ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کا حل نکالنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔
نجم سیٹھی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ابتدا میں ایران کے حوالے سے چار بڑے مقاصد لے کر چلا تھا، جن میں سے بیشتر اب ترک کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب امریکی مؤقف صرف ایک بنیادی شرط تک محدود ہو چکا ہے، یعنی غیر ملکی جہازوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا۔ سیٹھی بتاتے ہیں کہ ایران پر حملے سے پہلے امریکہ کا اصل مطالبہ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ٹھوس ضمانت حاصل کرنا تھا۔ حملے کے بعد اب امریکہ کا ایران سے سب سے بڑا مطالبہ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ہے جسے منوانے کے لیے خود امریکہ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ ناکہ بندی کھلوانے کے بعد واشنگٹن تہران سے نیوکلیئر پروگرام پر واضح یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ دیگر شرائط عملاً ختم ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ دوسری جانب نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ تہران اب خود کو نسبتاً مضبوط پوزیشن میں محسوس کر رہا ہے اور کسی جلد بازی کے موڈ میں نہیں۔ ایران سمجھتا ہے کہ امریکہ پر دباؤ زیادہ ہے، اس لیے وہ وقت لے کر بہتر شرائط حاصل کرنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ سیٹھی نے اپنے ماضی کے تجزیوں میں بھی بارہا اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے اور امریکہ کے لیے ایک طویل اور مہنگی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں ایسی مہم جوئیوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک منظم حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے بعد عمان اور پھر روس کا دورہ کریں گے تاکہ کسی بڑی طاقت سے ایسی ضمانت حاصل کی جا سکے جو امریکہ کے لیے قابل قبول ہو۔
ایران اور امریکہ کی جنگ نے عمران خان کو فارغ کیسے کر دیا؟
نجم سیٹھی کے مطابق اس عمل میں پاکستان ایک محدود کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد سہولت کار تو بن سکتا ہے، مگر ایران کو درکار سیکیورٹی یا جوہری ضمانت فراہم کرنا اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے نجم سیٹھی نے محتاط امید کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے، تاہم بات چیت کا جاری رہنا خود ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے کسی درمیانی راستے کے نکلنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں نہ امریکہ دوبارہ سے ایران پر حملہ آور ہونے کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایران پسپائی اختیار کرنے کو تیار ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے، جو ایک قابلِ قبول جنگ بندی یا معاہدے کی راہ ہموار کریں۔
