عمرانڈو ججز کی ٹرانسفر پر حکومت اور چیف جسٹس کے اختلافات

 

 

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ عمراندار ججز کو دوسرے صوبوں میں ٹرانسفر کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور وفاقی حکومت کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس آفریدی نے پانچ ججز کی ٹرانسفر کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی، تاہم سیکرٹری جوڈیشل کمیشن نے کمیشن کے ارکان کی درخواست پر 28 اپریل کو اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ ججز کی ٹرانسفر کا راستہ ہموار کرنے کے لیے چند ماہ قبل آئین میں ترمیم بھی کی گئی تھی۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے مجوزہ تبادلوں نے اب ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، ان ججوں کو متعلقہ ہائی کورٹس کی مرکزی نشستوں کے بجائے علاقائی بنچوں میں تعینات کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ منتقل کر کے ملتان یا بہاولپور بنچ میں تعینات کیا جا سکتا ہے، جبکہ جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بنچ میں بھیجنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دیگر ججوں میں جسٹس ارباب محمد طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ، جسٹس سمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ کے علاقائی بنچوں میں تعینات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر گیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ان تبادلوں پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس اقدام کی مخالفت کی، لیکن کمیشن کے پانچ ارکان کی درخواست پر اجلاس طلب کر لیا گیا، جو اب ان تبادلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ دوسری جانب، جوڈیشل کمیشن کے اندر اس معاملے پر واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔ بعض ارکان کے نزدیک تمام پانچ ججوں کے تبادلے کی منظوری مشکل دکھائی دیتی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صرف تین ججوں کے تبادلے کی منظوری دی جا سکتی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب محمد طاہر کے مجوزہ تبادلوں کی بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے، جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار کے معاملے میں نسبتاً کم مزاحمت سامنے آئی ہے۔ جسٹس سمن رفعت امتیاز کو بھی ممکنہ طور پر قابلِ قبول امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جن ججز کے تبادلوں کی تجویز زیر غور ہے انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھ کر عدالتی معاملات میں ریاستی اداروں کی مداخلت پر رہنمائی طلب کی تھی، سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ان ججوں کی ہمدردیاں تحریک انصاف اورعمران خان کے ساتھ ہیں، جس کے باعث ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس مؤقف کو متنازع قرار دیتے ہوئے وکلا برادری کے ایک حصے نے ان تبادلوں کو “تادیبی کارروائی” سے تشبیہ دی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دیتا۔

 

آئینی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا مرکزی نکتہ آئین کے آرٹیکل 200 کی تشریح ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ججوں کے تبادلوں کو محدود اور اصولوں کا پابند ہونا چاہیے، جبکہ دوسری رائے کے مطابق حالیہ آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کو اس حوالے سے وسیع اختیارات حاصل ہو چکے ہیں اور ججوں کی رضامندی کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اس ترمیم کے بعد ججوں کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ منتقل کرنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔ عدالتی حلقوں میں اس پیش رفت نے ایک بڑی آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طبقہ اسے عدالتی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے اور خبردار کر رہا ہے کہ اس سے ایک ایسی مثال قائم ہو سکتی ہے جس کے تحت ججوں کو انتظامی بنیادوں پر قابلِ تبادلہ سمجھا جانے لگے گا۔ دوسری جانب کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو سیاسی اثرات سے پاک کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

28 اپریل کو ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس نہ صرف ان ججوں کے تبادلوں کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ عدالتی خودمختاری، آئینی اختیارات اور ادارہ جاتی توازن کے حوالے سے بھی دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس اجلاس کی صدارت کرتے ہیں یا نہیں، اور کمیشن ان متنازع تبادلوں کے بارے میں کیا فیصلہ دیتا ہے۔

 

Back to top button