اسلام آباد مذاکرات: کامیابی اور ناکامی کا 50 پرسنٹ امکان

 

 

 

 

اسلام آباد میں باخبر سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی اور ناکامی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات تب کامیاب ہوں گے جب دونوں فریقین اپنے موقف میں لچک لائیں گے اور پہلے مرحلے میں بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو مزید پیشرفت ہوگی۔ اگر بات چیت آگے بڑھی تو پھر امریکی نائب صدر جے ڈبلیو وینس اور ایرانی سپیکر قالیباف اسلام آباد پہنچیں گے۔

 

یاد رہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی فضا میں ایک اہم پیش رفت تب ہوئی جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور عالمی سطح پر اس عمل کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اتوار کو متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی شیڈول کا اعلان ابھی باقی ہے۔

 

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت اس ممکنہ پیش رفت کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک ایک بار پھر باضابطہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، عباس عراقچی اپنے دورہ پاکستان کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور حالیہ عالمی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، بلکہ ایران اپنی حالیہ سفارتی پیش رفت سے پاکستان کو آگاہ کرے گا۔ ادھر واشنگٹن سے آنے والی اطلاعات کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر ہفتہ کے روز اسلام آباد کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق، حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے، جو مذاکرات کے لیے ایک مثبت اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

 

امریکی وزیر دفاع نے بھی اس تناظر میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا مشن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ایک دانشمندانہ اور متوازن معاہدہ کر لے، جو خطے میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ عوامی سطح پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ امریکہ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں، تاہم پسِ پردہ سفارتی کوششیں اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ دوہرا بیانیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن بیک وقت دباؤ اور مذاکرات دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی، تاہم وہ اتوار کو ہونے والے مذاکرات کے ابتدائی رائونڈ میں شریک نہیں ہوں گے۔

 

وائٹ ہاؤس کے مطابق وہ سٹینڈ بائی پر ہیں اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس ابھی مذاکرات میں اس لیے شریک نہیں ہو رہے کہ ان کے ہم منصب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف بھی اسلام اباد نہیں پہنچے کیونکہ فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا رہی۔ تاہم مذاکرات کا تسلسل بذات خود ایک مثبت علامت ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریق کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں۔

برطانیہ کا پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم موقع ہیں، جہاں وہ ایک ثالث یا سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان میں ہونے والی مشاورت مثبت رہی تو اسلام آباد ان نتائج سے باضابطہ طور پر واشنگٹن کو آگاہ کرے گا، جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی باریکی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ توانائی کی منڈیوں، علاقائی اتحادوں اور سلامتی کی صورتحال پر اس کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر یہ سفارتی عمل غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

فی الوقت نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے چند دنوں میں ہونے والی ملاقاتیں اور مشاورت اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آئے گی یا صورتحال جوں کی توں برقرار رہے گی۔

Back to top button