ایران سے جنگ یا معاہدہ، ٹرمپ کو یکم مئی کی ڈیڈ لائن مل گئی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صدر ٹرمپ کو نہ صرف عسکری بلکہ آئینی اور سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ سے متعلق فیصلہ کرنے کیلئے ٹرمپ کے پاس جمعہ، یکم مئی تک کی ڈیڈ لائن موجود ہے کیونکہ صدارتی احکامات کے تحت ایران سے جاری جنگ کی 60 دن کی آئینی مدت اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جنگ کی کانگریس سے منظوری تاحال غیر یقینی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث امریکہ کیلئے ایران سے جنگ کو جاری رکھنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ تاہم ماضی میں سابق صدر اوباما نے لیبیا میں 60 دن کے بعد بھی کارروائیاں جاری رکھی تھیں جبکہ ٹرمپ خود یمن جنگ سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی قانون "وار پاور ریزولوشن” کے تحت صدر بغیر کانگریس کی اجازت کے صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ مدت 2 مارچ 2026 کو کانگریس کو اطلاع دینے کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد صدر کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق صدر کے پاس چار آپشنز موجود ہیں: کانگریس سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا، فوجی انخلا شروع کرنا، صرف انخلا کیلئے 30 دن کی محدود توسیع لینا، یا قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھنا۔ تاہم ہر راستہ سیاسی اور قانونی خطرات سے بھرپور ہے۔ ڈیموکریٹک اراکین پہلے ہی اس جنگ کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں اور ٹرمپ کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ کارروائی امریکی مفادات اور اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل کے دفاع کیلئے ضروری ہے۔ مارچ اور اپریل 2026 میں ڈیموکریٹس نے پانچ بار جنگ ختم یا محدود کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار سینیٹ میں ووٹنگ پارٹی بنیادوں پر ہوئی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ہر بار ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے بعض مواقع پر ریپبلکنز کی حمایت کی۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی، جو اب تک ٹرمپ کے ساتھ کھڑی تھی، اب 60 دن کی حد کے بعد تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ کانگریس میں مجموعی طور پر 535 ارکان ہیں، جن میں ایوان نمائندگان کے 435 اور سینیٹ کے 100 اراکین شامل ہیں۔ کسی بھی بڑی جنگی منظوری کیلئے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، یعنی ایوان میں 218 اور سینیٹ میں 51 ووٹ۔ اگرچہ ریپبلکنز کو عددی برتری حاصل ہے، لیکن پارٹی کے اندر مکمل اتفاق نہ ہونے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔چند اہم ریپبلکن رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ 60 دن کے بعد بغیر کانگریس منظوری کے جنگ کی حمایت نہیں کریں گے۔ سینیٹر جان کرٹس نے کھل کر مخالفت کا عندیہ دیا ہے جبکہ ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ نے بھی کہا ہے کہ آئندہ ووٹنگ کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ الاسکا کی سینیٹر لیزا مرکوسکی ایک باضابطہ قانونی فریم ورک تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں، جو پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

Back to top button