اسرائیل نے یو اے ای کو ایرانی حملوں سے کیسے بچایا؟

متحدہ عرب امارات کو ایران کی جوابی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام اور فوجی اہلکاروں کی یو اے ای میں تعیناتی کی اطلاعات نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی اتحاد اور بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بہت اہم سٹریٹجک حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق حالیہ ایران جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو جدید فضائی دفاعی نظام "آئرن ڈوم” فراہم کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس سسٹم کو مؤثر انداز میں چلانے کیلئے اسرائیلی فوجی اہلکار بھی امارات بھیجے گئے، جسے ایک غیرمعمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم نظام کسی عرب ملک کو فراہم کیا ہے۔ اماراتی قیادت نے اس اقدام کو مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کے تناظر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران اسرائیل نے امارات کو آئرن ڈوم کی ایک مکمل بیٹری فراہم کی تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ماہرین اور فوجی عملہ بھی تعینات کیا گیا تاکہ نظام کی مؤثر نگرانی اور آپریشن ممکن ہو سکے۔یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے دفاعی اتحاد اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون کی واضح علامت سمجھی جا رہی ہے، جو خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button