کیا ایرانی فیصلہ سازوں میں اختلاف مذاکرات میں رکاوٹ بنا

 

 

اسلام آباد میں ایران امریکہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کی منسوخی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی نہیں، جبکہ یہ بھی غیر واضح ہے کہ ان مذاکرات کے دوران حتمی فیصلے کس سطح پر اور کون کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت فیصلہ سازی میں ایک ہی پیج پر ہے ورنہ سپریم لیڈر اور مرکزی قیادت کے قتل کے بعد امریکہ ریجیم تبدیل کرنے کے منصوبے میں کامیاب ہو چکا ہوتا۔

 

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا پنگا لینے کے بعد سے یہ سوال مسلسل کیا جا رہا ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے؟ 28 فروری کو امریکی حملے کے پہلے دن اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مُجتبیٰ خامنہ ای نے رہبرِ اعلیٰ کا کردار سنبھالا۔ ایران کے سیاسی نظام میں یہ منصب ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جہاں جنگ و امن، خارجہ پالیسی اور ریاستی حکمت عملی سمیت تمام بڑے فیصلوں پر آخری اختیار رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ سوال مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کہ کیا یہ اختیار عملی طور پر مرکزی سطح پر استعمال ہو رہا ہے یا منتشر انداز میں مختلف اداروں میں بٹ چکا ہے۔

 

امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی فیصلہ سازی کا نظام عملی طور پر اس قدر واضح نہیں جتنا اس کا آئینی ڈھانچہ ظاہر کرتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ایران کی قیادت کو “منقسم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کی جانب سے “یکساں اور مربوط تجاویز” کا منتظر ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران پر حملوں کے پہلے ہی روز بڑی تعداد میں عسکری اور سیاسی قیادت قتل کر دی گئی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اختیار سنبھالنے کے بعد سے مُجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر تقریباً غیر حاضر رہے ہیں۔ چند تحریری بیانات کے سوا، جن میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مؤقف کی توثیق بھی شامل ہے، ان کی روزمرہ حکومتی امور میں براہ راست شمولیت کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔

 

ایرانی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ مجتبی خامنہ ای ابتدائی حملوں میں زخمی ہوئے تھے، تاہم اس حوالے سے تفصیلات کافی محدود رکھی گئی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں گہرے زخم آئے، جن میں چہرے کے زخم بھی شامل ہیں، جن کے باعث ان کے لیے بولنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ان کی ایک ٹانگ اور بازو شدید زخمی ہیں اور انہیں مکمل صحت یاب ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کی غیر موجودگی ایران کے سیاسی نظام میں ایک اہم خلاء پیدا کرتی ہے، جہاں قیادت نہ صرف ادارہ جاتی بلکہ علامتی اور نمائشی طور پر بھی کام کرتی ہے۔

 

یاد رہے کہ پچھلے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے دور میں مسلسل تقاریر، عوامی موجودگی اور مختلف دھڑوں کے درمیان ثالثی کے ذریعے اپنا اختیار واضح کرتے رہتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ عمل کافی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے تشریحی خلا کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں یہ واضح نہیں کہ اصل فیصلہ سازی کس سطح پر ہو رہی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق جنگ کے دوران مُجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ رہبر کا درجہ تو حاصل ہوا، لیکن وہ ابھی تک اپنی اتھارٹی کو مکمل طور پر مستحکم نہیں کر سکے۔ بعض دیگر تجزیہ کار ان کی صحت اور ممکنہ زخموں کی وجہ سے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا وہ نظام کو عملی طور پر چلا بھی پا رہے ہیں یا نہیں۔

 

اسی دوران سفارتی محاذ پر ایرانی حکومت متحرک نظر آتی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی نگرانی میں وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں، تاہم پالیسی سازی کی سمت غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔ عباس عراقچی کی اتھارٹی اس وجہ سے بھی مشکوک سمجھی جاتی ہے کہ پارلیمان کے سپیکر محمد قالیباف بھی مذاکراتی عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عراقچی اور قالیباف میں بڑا فرق یہ ہے کہ قالیباف ماضی میں ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پچھلے دنوں عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ٹویٹ کی تو انہیں پاسداران انقلاب کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پھر یہ فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا۔ عراقچی کے بیانات میں تضاد بھی دیکھا گیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ان کا ابتدائی اشارہ اور بعد ازاں تردید اس بات کی علامت ہے کہ سفارتی فیصلے کسی واضح مرکز کے تابع نہیں۔ دوسری جانب صدر پزشکیان خود کو نظام کی مجموعی سمت کے ساتھ ہم آہنگ رکھے ہوئے ہیں مگر قیادت کے بجائے ایک پیروی کرنے والے کردار میں نظر آتے ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا تعطل اسی ابہام کی ایک اور مثال ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سفارتی راستے کھلے ہونے کے باوجود کوئی واضح فیصلہ سازی سامنے نہیں آ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظام یا تو ارادے کی کمی کا شکار ہے یا فیصلہ کن اقدام سے گریز کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا سب سے اہم دباؤ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس سے متعلق فیصلے براہ راست پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ میں ہیں، جن کی قیادت احمد وحیدی کر رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ اصل عملی اختیار ان اداروں میں منتقل ہو چکا ہے جو بظاہر پس منظر میں کام کرتے ہیں مگر حقیقی بحرانوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

 

اسکے علاوہ ماضی کے برعکس اس وقت ایران میں کوئی ایک نمایاں سیاسی چہرہ ایسا نہیں جو مکمل طور پر نظام کی سمت طے کرتا دکھائی دے۔ اس کے بجائے ایک ایسا طرزِ عمل سامنے آیا ہے جس میں پہلے کارروائی ہوتی ہے اور بعد میں اس کی سیاسی توجیہ پیش کی جاتی ہے، اور وہ بھی ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اس صورتحال میں ایک اہم لیکن پیچیدہ کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور موجودہ سپیکر کے طور پر وہ ایک طرف سخت گیر حلقوں کے قریب ہیں اور دوسری طرف پارلیمانی سیاست میں متحرک بھی۔ تاہم ان کی حیثیت بھی واضح اختیار سے زیادہ انتظامی اثر و رسوخ تک محدود دکھائی دیتی ہے۔

ایران کیخلاف جنگ کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی

تجزیہ کاروں کے مطابق مجموعی طور پر صورتحال ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جو بظاہر فعال ہے مگر اندرونی طور پر غیر مربوط دکھائی دیتا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب موجود ہے مگر اس کا عملی اظہار محدود ہے، صدر ہم آہنگی دکھا رہے ہیں مگر قیادت نہیں کر رہے، اور سفارت کاری جاری ہے مگر فیصلہ سازی غیر واضح ہے۔ اس کے باوجود ریاستی ڈھانچہ برقرار ہے اور کسی بڑے بکھراؤ کے آثار موجود نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ موجودہ نظام دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں کو واضح سمت دینے میں مشکلات کا شکار ہے، اور یہی ابہام امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

Back to top button