ایران کیخلاف جنگ کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی

 

 

 

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران پر مسلسل ایک ماہ تک جاری رہنے والے حملوں کے دوران امریکی افواج نے میزائلوں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ استعمال کر لیا تھا، جسے دوبارہ بنانے میں ایک سے دو سال نہیں بلکہ کئی برس لگ سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل اور ڈرونز کے غیر معمولی فوجی استعمال نے امریکہ کے دفاعی ذخائر کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اب انکی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل بن چکی ہے۔

 

اس سلسلے میں معروف امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی دفاعی ماہرین کو پیٹریاٹ تھری میزائلوں کے مطلوبہ ذخائر دوبارہ تیار کرنے کے لیے تقریباً 42 ماہ درکار ہوں گے، جبکہ ٹام ہاک میزائلوں کی کمی پوری کرنے کے لیے کم از کم 47 ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ جریدے کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث روس اور چین کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کی صورت میں ہتھیاروں کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

وائٹ ہاؤس کی جانب سے وال سٹریٹ جرنل کے ان دعوؤں کی تردید کے بعد نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر امریکی ہتھیاروں کے ضیاع کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اربوں ڈالرز مالیت کے ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کے باوجود امریکہ ایران میں کوئی واضح اور فیصلہ کن عسکری ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دونوں امریکی اخبارات کی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کا مضبوط عسکری انفراسٹرکچر اور نسبتاً سستے میزائل اور شاہد ڈرونز کے باعث چالیس روز تک جاری رہنے والی جنگ میں ضرورت سے زیادہ امریکی اسلحہ استعمال کرنا پڑ گیا۔ اس غیر معمولی جنگی خرچے اور مالی نقصانات نے امریکی دفاعی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 

ان خبروں کے بعد امریکی سیاسی اور عسکری حلقوں میں صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن مارک وارنر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایک ہی وقت میں سات مختلف محاذوں میں الجھ کر اپنے دفاعی ذخائر تیزی سے ختم کر رہا ہے، اور جس رفتار سے اسلحہ استعمال ہوا ہے، اسے دوبارہ تیار کرنے میں کئی برس لگیں گے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اسلحہ کی کمی کے باعث امریکہ اپنے کچھ عسکری وسائل ایشیا اور یورپ سے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر بھی مجبور ہوا ہے۔ امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں روس اور چین جیسے ممکنہ حریفوں کے مقابلے کے لیے امریکی فوج کو دوبارہ مسلح کرنے میں پینٹاگون کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہام لنکن جنوبی چین کے سمندر سے ہٹا کر مشرق وسطیٰ بھیجا گیا، جبکہ جنوبی کوریا میں موجود تھاڈ میزائل سسٹم کے انٹرسیپٹرز بھی پہلی بار وہاں سے نکال کر تل ابیب منتقل کیے گئے۔

صدر آصف زرداری کی فراغت کی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے؟

اسی دوران نیٹو کے مشرقی حصوں کے دفاعی نظام میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ خصوصاً ڈرونز کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والے اسلحہ کے استعمال کے باعث امریکہ مستقبل میں تائیوان کے دفاع کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک امریکہ کے اخراجات 30 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران ایران میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بڑی تعداد میں شہری انفرا اسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے تقریباً 1100 کروز میزائل استعمال کیے، جو چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے محفوظ رکھے گئے ذخائر کے قریب قریب تھے۔ اس دوران ایک ہزار سے زائد کروز میزائل داغے گئے، جو امریکی سالانہ پیداوار سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہیں۔ پینٹاگون نے اس جنگ میں 1200 پیٹریاٹ میزائل بھی استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد دیگر درست نشانہ لگانے والے میزائل بھی استعمال کیے گئے، جس سے مجموعی ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔

 

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی امریکہ نے تقریباً 5.5 ارب ڈالر کے میزائل اور گولہ بارود استعمال کر لیا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ان ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مجموعی طور پر 48 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ پیٹریاٹ سسٹم کے لیے 42 ماہ، تھاڈ سسٹم کی مکمل بحالی کے لیے 53 ماہ اور ٹام ہاک میزائلوں کے لیے کم از کم 47 ماہ درکار ہوں گے۔ دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان سین پارنیل نے ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صدر کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے ہر ضروری ہتھیار موجود ہے اور دفاعی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

 

Back to top button