صدر آصف زرداری کی فراغت کی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے؟

معروف اینکرپرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے صدر آصف علی زرداری کو انکے عہدے سے ہٹانے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی و انتظامی نظام کے لیے صدر زرداری کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا زیادہ سودمند ہے، جبکہ ان کی فراغت سے نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کے حوالے سے ہمیشہ مثبت خبروں کے مقابلے میں منفی خبریں زیادہ سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ان کا ردعمل دیگر سیاستدانوں سے یکسر مختلف ہے۔ عام طور پر سیاستدان اپنے خلاف آنے والی خبروں کی فوری وضاحت کرتے ہیں، لیکن آصف زرداری ان خبروں کو “بہتان” قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ جھوٹے الزامات سے ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں صدر زرداری کی صحت، عہدے سے ہٹائے جانے اور سیاسی کردار کے خاتمے سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، یہاں تک کہ متبادل صدور کے نام بھی زیر گردش آئے۔ تاہم ایوانِ صدر کی جانب سے ان افواہوں پر کوئی غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر واقعی کوئی غیر معمولی صورتحال ہوتی تو صدر کی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی تبدیلی نظر آتی، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر زرداری معمول کے مطابق سماجی تقریبات میں شرکت کرتے رہے، لاہور میں ایک شادی میں شریک ہوئے، بلاول ہاؤس میں قیام کیا اور پھر چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے۔ ان کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی جس میں وہ بغیر سہارے طیارے کی سیڑھیاں چڑھتے دکھائی دیے، جس سے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوتی ہیں۔ اگرچہ وہ زیر علاج ہیں، تاہم معمول کی زندگی گزار رہے ہیں اور باقاعدگی سے ورزش بھی کرتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ رابطوں میں صدر زرداری یا بلاول بھٹو زرداری کی عدم موجودگی کو غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ باضابطہ ریاستی دورے نہیں تھے بلکہ ہنگامی نوعیت کے سفارتی رابطے تھے۔ اس تناظر میں صدر مملکت کا براہ راست کردار مناسب بھی نہیں تھا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق، پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم قومی معاملات پر صدر کی سربراہی میں مشاورت ہو چکی ہے اور وزیراعظم وقتاً فوقتاً انہیں پیشرفت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول، موجودہ “ہائبرڈ نظام” میں صدر زرداری کا کردار توازن برقرار رکھنے میں مددگار ہے، اور جب تک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت مضبوط ہے، ان کی صدارت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
انکا کہنا ہے کہ صدر زرداری کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے، جس میں بغیر ثبوت کے مختلف الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جن میں متوازی نظام چلانے، بین الاقوامی تعلقات میں جھکاؤ اور داخلی پالیسی معاملات پر اختلافات شامل ہیں۔ تاہم ان الزامات کی اکثریت ماضی میں بھی زیرِ بحث آ چکی ہے اور ان کی کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آئی۔
ملکی سیاسی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے فوجی حلقے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور اتحادی جماعتیں، خصوصاً نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ، اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ سہیل وڑائچ نے زور دیا کہ صدر زرداری کا حالیہ دورہ چین بھی معمول کا حصہ ہے، اور وہ ماضی کی طرح اس بار بھی صنعتی و تجارتی مراکز کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور صدر زرداری اسی وژن کے تحت اپنی سفارتی ترجیحات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بارپھروزیراعظم اورفیلڈمارشل کی تعریف کردی
انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود، صدر آصف علی زرداری بدستور اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، کیونکہ ان کی موجودگی میں نظام کو استحکام حاصل ہے، جبکہ ان کی غیر موجودگی سے عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
