ڈیوٹیز میں 175 فیصد تک اضافہ، امپورٹڈ موبائل فونز مزید مہنگے

 

 

 

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے درآمدی موبائل فونز پر لگائے جانے والے بھاری ٹیکسز کم کرنے کی سفارش کے برعکس وفاقی حکومت نے امپورٹڈ استعمال شدہ موبائل فونز پر عائد ڈیوٹیز میں 175 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد آئی فون اور سام سنگ سمیت مختلف برانڈز کے 62 ماڈلز کے موبائل فون مہنگے ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد عام آدمی کیلئے امپورٹڈ سستے موبائل فون کی خریداری صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نئی ویلیوایشن پالیسی کے تحت اب تمام درآمدی استعمال شدہ فونز پر ٹیکس نئی مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق وصول کیا جائے گا، چاہے فون کی حالت کچھ بھی ہو۔ نئے ریٹ کے مطابق آئی فون 15 پرو میکس کی ویلیو 460 ڈالر سے بڑھا کر 505 ڈالر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر ماڈلز جیسے آئی فون 15 پرو، آئی فون 14 اور سام سنگ و گوگل کے متعدد ماڈلز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ایف بی آر حکام کے بقول تجارتی بنیادوں پر بغیر پیکجنگ یا ایکسیسریز کے درآمد ہونے والے فونز پر یہی ویلیو لاگو ہوگی، اس پالیسی کے تحت درآمدی موبائل فونز کے کم از کم چھ ماہ پہلے ایکٹیویٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی ماڈل فہرست میں شامل نہیں ہوگا تو اس کی ویلیو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت طے کی جائے گی، جبکہ درآمدی قیمت زیادہ ہونے کی صورت میں اسی پر ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نئی ویلیوایشن پالیسی کے تحت جن معروف کمپنیوں کے فونز پر عائد ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل، ون پلس اور شارپ شامل ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ان برانڈز کے مختلف ماڈلز کی نئی کسٹم ویلیو زیادہ مقرر ہونے کے باعث ان کی درآمد اور رجسٹریشن پر لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ نتیجتاً دکاندار ٹیکسز کا یہ اضافی بوجھ صارفینکو منتقل کر دینگے جس سے استعمال شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں مزید کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کے بقول ایف بی آر کے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت صرف انھی استعمال شدہ موبائل فونز کو درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی جو کم از کم چھ ماہ قبل فعال ہو چکے ہوں۔ تاکہ نئے فونز کو استعمال شدہ ظاہر کر کے کم ٹیکس ادا کرنے کے عمل کو روکا جا سکے۔

خیال رہے کہ کسی بھی پراڈکٹ کی کسٹم ویلیو دراصل وہ سرکاری قیمت ہوتی ہے جسے بنیاد بنا کر درآمد شدہ موبائل فونز یا دیگر اشیاء پر ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ وہی قیمت ہو جس پر صارف نے فون خریدا ہو، بلکہ یہ ایک مقررہ تخمینہ ہوتا ہے جس کے مطابق ٹیکس کا حساب لگایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب یہ ویلیو بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ ہی ٹیکس کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر مارکیٹ قیمتوں پر پڑتا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے موبائل فونز کی کسٹم ویلیو میں بڑھانے کے بعد جہاں ایک جانب استعمال شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث متوسط طبقے کے لیے معیاری فون خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ وہیں دوسری جانب امپورٹڈ موبائل فونز کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز کی طرف رجحان میں اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی صنعت کو کچھ حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اگر مقامی مصنوعات معیار اور قیمت کے لحاظ سے صارفین کی توقعات پر پورا نہ اتریں تو یہ فائدہ محدود بھی رہ سکتا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق امپورٹڈ موبائل فونز پر ٹیکسز میں ہوشربا اضافے کے بعد غیر قانونی ذرائع سے آنے والے موبائل فونز کی طلب میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جو حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

 

واضح رہے کہ پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر مختلف سرکاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کی جاتی ہیں جن میں کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور بعض صورتوں میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور انکم ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر یہ فون بیرونِ ملک سے درآمد کیا گیا ہو تو یہ تمام ٹیکسز الگ سے لاگو ہوتے ہیں اور مجموعی رقم فون کی قیمت کے تقریباً 40 سے 70 فیصد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک عرصے تک پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر سیلز ٹیکس پر چھوٹ تھی تاہم 2021 میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر یہ استثنیٰ ختم کر دیا تھا جس کے بعد درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کے بعد سے ہی درآمدی موبائل فونز پر عائد بھاری پی ٹی اے ٹیکسز عوامی تنقید کی زد میں ہیں جہاں ایک طرف موبائل فونز پر عائد ٹیکس کو غیر منصفانہ قرار دیا جاتا ہے وہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ان ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ تاہم سینیٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کے بعد درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کی کمی کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم ایف بی آرنے امپورٹڈ موبائل فونز کی کسٹم ویلیو میں اضافہ کر کے عوام کے سستے موبائل فون خریدنے کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں۔

Back to top button