ایران اور امریکہ کی جنگ نے عمران خان کو فارغ کیسے کر دیا؟

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے بعد پیدا ہونے والے عالمی بحران نے پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عمران خان کی تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی قوتیں رائے عامہ اور عوامی حمایت کھوتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ قومی مفاد اور ریاستی دفاع کے چورن نے دیگر تمام سیاسی بیانیوں کا گلا گھونٹ دیا یے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ رائے عامہ کو گمراہ کرنا، عوام کو ایک مخصوص بیانیے کے ذریعے حقیقت سے دور رکھنا آج بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق دنیا بے حد جدید ہو چکی ہے، ٹیکنالوجی اور نظام بدل چکے ہیں، مگر انسانی جذبات یعنی محبت، نفرت، خواہش، ہوس اور ارادے آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے صدیوں پہلے تھے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان میں بھی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور اسے مخصوص رخ دینے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد عمران خان کی جانب سے یہ جھوٹا بیانیہ پیش کیا گیا کہ انکی حکومت کو امریکہ نے ہٹایا، انہوں نے حکومت سے نکلنے کے بعد عوامی جلسوں میں ایک نام نہاد سائفر لہرا لہرا کر عوام کو بتایا کہ یہ ان کے خلاف امریکی سازش کا ثبوت ہے۔ لیکن پھر جب ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے تو خان صاحب کی جماعت نے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ دعوے کرنا شروع کر دیے کہ امریکی صدر خود عمران خان کو جیل سے رہائی دلانے پاکستان آئیں گے۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عمران خان ایک نیا اسلامی بلاک تشکیل دینا چاہتے تھے، جبکہ حقیقت میں افغانستان کے طالبان کے علاوہ کسی بھی مسلم ملک کے سربراہ نے اس تصور کی حمایت نہیں کی۔ اسکے علاوہ مسلسل یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ فوج ہمیشہ غلط سیاسی کردار ادا کرتی رہی ہے اور اسی نے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا ہے۔ سہیل وڑائچ اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان تمام بیانیوں کے باوجود عمران خان اب بھی بنیادی طور پر فوج سے ہی مذاکرات کے خواہاں ہیں، جو انکے بیانیے اور عملی سیاست کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایران کے معاملے میں بھی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایک جانب امریکہ اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ایران مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران ہزاروں قربانیوں کے باوجود اپنی فتح کے دعوے کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب بیانیے میں مبالغہ اور دھوکہ شامل ہے، جبکہ اصل راستہ صرف امن ہے۔ بصورت دیگر امریکہ کی عالمی ساکھ متاثر ہوگی اور ایران مزید تباہی کا شکار ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو اس جنگ میں عالمی سطح پر بھرپور عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ پاکستان میں ایران کے حق میں جذباتی اور غیر مشروط حمایت دیکھنے میں آتی ہے۔ ٹرمپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وہ فیصلہ کن فتح حاصل کر لیتے ہیں تو رائے عامہ ان کے حق میں ہو جائے گی، جبکہ ایران یہ خیال کرتا ہے کہ طویل مزاحمت کے ذریعے امریکہ کو تھکایا جا سکتا ہے۔
تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق دونوں فریق غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستان میں وسطی کی جنگ کے نتیجے میں سیاست ٹھنڈی پڑ چکی ہے اور تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی قوتیں وقتی طور پر رائے عامہ کی حمایت کھو چکی ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس وقت ریاستی دفاع اور قومی مفاد سیاسی نعروں اور بیانیوں سے کہیں زیادہ اہم حقیقت بن چکے ہیں۔
اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ تاریخی و ادبی حوالہ دیتے ہوئے بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہیں، جنہیں وہ موجودہ سیاست دانوں میں سب سے زیادہ وسیع المطالعہ قرار دیتے ہیں انکے مطابق بے نظیر بھٹو کو ادب، تاریخ اور عالمی امور پر گہری دسترس حاصل تھی، اور وہ ولیم شیکسپیئر کے شہرہ آفاق ڈرامے جولیس سیزر سے خاص شغف رکھتی تھیں۔ اس ڈرامے میں سیاست کے عروج و زوال اور رائے عامہ کے اتار چڑھاؤ کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق برصغیر میں اکثر فرد واحد کی آواز کو اجتماعی رائے عامہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور عوام کے نام پر ذاتی ایجنڈے مسلط کیے جاتے ہیں۔ بظاہر رائے عامہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہوتی ہے، مگر اگر یہ گمراہ کن ہو تو دراصل ایک خطرناک دھوکہ بن جاتی ہے، جسے قبول کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔
وہ رومن تاریخ کے اہم واقعے، جولیس سیزر کے قتل کا حوالہ دیتے ہیں، جسے شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے میں امر کر دیا۔ سیزر کے قتل کے بعد سازشیوں نے آزادی اور جمہوریت کے نام پر بیانیہ گھڑا تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کیا جا سکے۔ بروٹس نے سیزر کے قتل کو حب الوطنی کا تقاضا قرار دیا، جبکہ مارک انتھونی نے ایک جذباتی تقریر کے ذریعے رائے عامہ کا رخ بدل دیا اور سازش کو بے نقاب کیا۔ اس تاریخی مثال کے ذریعے سہیل وڑائچ یہ واضح کرتے ہیں کہ اکثر سیاسی بیانیے حقیقت کو چھپانے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں، جبکہ اصل محرکات کچھ اور ہوتے ہیں، جیسا کہ شیکسپیئر کے مطابق بروٹس خود اقتدار کا خواہاں تھا۔
اسلام آباد مذاکرات: کامیابی اور ناکامی کا 50 پرسنٹ امکان
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ریاستی پالیسیوں کے حق میں رائے عامہ کی حمایت اہم ضرور ہے، مگر یہ کبھی غیر مشروط نہیں ہوتی۔ عوام کے لیے ریاست کے وقار کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ صوفی بزرگ بابا فرید کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ روٹی کو اسلام کا چھٹا رکن قرار دیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ معاشی استحکام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ آخر میں وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مشرق وسطیٰ کے بحران کے خاتمے کے بعد پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو سکیں گے؟ ان کے مطابق مستقبل کی رائے عامہ کا انحصار اسی سوال کے جواب پر ہوگا۔
