بلوچستان حکومت اور اپوزیشن ایک بار پھر آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

 

 

 

گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار صوبہ بلوچستان ایک بار پھر ایک نئے سیاسی تنازعے کی زد میں ہے۔ جہاں صوبے میں تعلیمی زوال بارے الزامات اور جوابی بیانات نے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے بلکہ ماضی کی پالیسیوں اور ان کے اثرات پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حالیہ صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں تعلیمی زوال کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں پر عائد کر دی۔ سرفراز بگٹی کے مطابق ماضی کی حکوموتوں کے بعض فیصلے ایسے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیمی ڈھانچے کو کمزور کیا بلکہ بلوچستان کو ترقی کے سفر میں بھی پیچھے دھکیل دیا۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مطابق ماضی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ماہر اساتذہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ صوبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس اقدام نے نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کیا بلکہ بلوچستان کو ترقی کی دوڑ میں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے لانا اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہی ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

 

مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اشارہ خاص طور پر سابقہ بلوچستان حکومت کے اس فیصلے کی جانب تھا جس کے تحت دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب سے آنے والے ماہر اساتذہ کو واپس بھیج دیا گیا، جس کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہوا۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر اپوزیشن بھی خاموش نہ رہی اور سخت جواب دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی بیانات دراصل موجودہ مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں وزیر اعلیٰ کو ماضی کی حکومتوں پر الزام تراشی کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ صوبے میں تعلیمی زوال ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے محض ایک یا دو فیصلوں سے جوڑنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

 

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر ثناء بلوچ کااس حوالے سے اپنے ردعمل میں مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اس قسم کے دعوؤں کا مقصد محض سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی مستند سرکاری فیصلہ موجود نہیں جس کے تحت پنجاب کے اساتذہ کو واپس بھیجا گیا ہو۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر واقعی ایسا کوئی اقدام کیا گیا تھا تو اس کی دستاویزی شہادت پیش کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کے مختلف سرکاری عہدوں پر اردو اور پنجابی بولنے والے افراد خدمات انجام دیتے رہے ہیں، اس لیے لسانی بنیادوں پر بیانیہ تشکیل دینا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اس سے صوبے میں تقسیم اور نفرت کو بھی ہوا مل سکتی ہے۔

 

بلوچستان کے تعلیمی منظرنامے پر حالیہ سیاسی بیانات نے ایک بار پھر ماضی کے فیصلوں، موجودہ چیلنجز اور مستقبل کی سمت پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے حالیہ خطاب میں نہ صرف صوبے کی تعلیمی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ اس کے ردعمل میں آنے والے بیانات نے اس معاملے کو ایک وسیع سیاسی اور سماجی مباحثے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک حساس سیاسی اور تاریخی مسئلہ بھی ہے، جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی بغاوت، اچکزئی مشاورتی عمل سے مکمل آؤٹ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں تعلیم کا مسئلہ تاریخی، انتظامی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہے۔ اس میں وسائل کی کمی، انفراسٹرکچر کی بدحالی، اساتذہ کی قلت اور امن و امان کی صورتحال جیسے کئی عناصر شامل ہیں۔ ایسے میں صرف ماضی کی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرانا نا مناسب ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں الزام تراشی سے ہٹ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر کے ایسے عملی اقدامات کریں جو بلوچستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکیں۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو صوبے کو پائیدار ترقی اور استحکام کی جانب لے جا سکتا ہے۔

 

Back to top button