عمران خان لانگ مارچ کا رسک لینے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟

گزشتہ کئی مہینوں سے بار بار حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کی دھمکی دینے والے سابق وزیراعظم عمران خان ابھی تک مارچ کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کر پائے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی نہ صرف انکا ٹرمپ کارڈ ہے بلکہ انکے ترکش کا آخری تیر بھی ہے جس کو وہ اتنی آسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ لانگ مارچ عمران خان کے لیے ایک بڑا رِسک ہے۔ اگر وہ مارچ نہ کریں تو ان کے حامی مایوس ہو کر پیچھے ہٹ جائیں گے اور انکی تحریک کا ٹیمپو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر وہ مارچ کرتے ہیں تو 25 مئی کی طرح اس کی ناکامی کا امکان بھی موجود ہے جس کے بعد انہیں اگست 2023 تک نئے الیکشن کا انتظار کرنا ہوگا۔ لہذا عمران بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے مارچ کی دھمکی تو دے رہے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کر رہے۔ خان صاحب کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مارنے سے ڈرانا اچھا ہوتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت ڈرنے کی بجائے ڈرانے پر آ جائے تو پھر مارنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اسلئے عمران اب اگر لانگ مارچ نہیں کرتے تو بھی پھنستے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو بری طرح پھنس سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے عمران خان کی توسیع کی تجویز مسترد کئے جانے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد اب حکومت کی مشکلات کافی حد تک کم دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اب حالات ایسے نہیں رہے کہ حکومت کسی قسم کا دباؤ محسوس کرے اور عمران کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کا اعلان کر دے۔ عمران کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے 2014 میں نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے بعد جو 123 دن کا دھرنا دیا تھا اسے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن موصوف پھر بھی اپنے مطالبات منوانے میں ناکام رہے۔ 2014 کے بعد عمران خان نے 25 مئی 2022 کو اسلام آباد کی جانب جس لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا وہ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا تھا۔ ویسے بھی اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں تھی کیونکہ خان صاحب اسی کو گالیاں دے رہے تھے۔ لانگ مارچ کے حالات ایسے ابتر ہوئے کہ عمران خود بھی اسلام آباد نہیں پہنچ پا رہے تھے چنانچہ حسب سابق سپریم کورٹ انہیں ریسکیو کرنے کیلئے میدان میں اتر آئی اور حکومت کو یہ حکم دیا کہ لانگ مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور مظاہرین کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے دیا جائے۔
تاہم لانگ مارچ کے شرکاء کی تعدادپھر بھی مایوس کن رہی۔ جب مظاہرین نے اسلام آباد میں مختلف مقامات پر آگ لگانا شروع کی تو پولیس پیچھے ہٹ گئی اور رینجرز کے دستے میدان میں اتر آئے جنہوں نے بھاری آنسو گیس شیلنگ کی اور انہیں منتشر کر دیا۔ عمران اب بھی یہ گلہ کرتے ہیں کہ اگر 25 مئی کو رینجرز ان کا رستہ نہ روکتے تو انہوں نے ڈی چوک میں دھرنا دے دینا تھا۔ لیکن اس مرتبہ رانا ثناءاللہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر لانگ مارچ ہوا تو اسلام آباد میں فوجی دستوں کو تعینات کیا جائے گا چنانچہ عمران خان کو یہ خوف ہے کہ 25 مئی کی طرح ایک بار پھر اگر ان کا مقابلہ رینجرز کے ساتھ ہو گیا تو انہیں دوبارہ جوتے اٹھا کر بھاگنا پڑ جائے گا، چنانچہ وہ لانگ مارچ کی دھمکی تو دے رہے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔
دوسری جانب موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے تازہ تجزیے میں سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار ماریہ میمن کہتی ہیں کہ عمران نے فی الحال لانگ مارچ کی کال دینے کی بات کی ہے لیکن لانگ مارچ ابھی باقی ہے۔ اپنے ہر اعلان کے ساتھ ان کی طرف سے ایک ڈرانے والی تنبیہ بھی ہوتی ہے اور پھر ایک سسپنس بھی۔ خان صاحب کے بقول ان کا اصل منصوبہ ابھی صیغہ راز میں ہے مگر اس کے خطرناک نتائج سے وہ عوام اور خواص کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر ہدف عوام کے بجائے خواص ہی ہیں اور اس ضمن میں پس پردہ ملاقاتوں کی تو وہ خود یہ کہہ کر تصدیق کر چکے ہیں کہ ’میں جھوٹ بولتا نہیں اور سچ بول نہیں سکتا‘۔
ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ عمران خان چاہتے تو اصل میں یہی ہیں کہ ان کا مارچ لانگ کے بجائے شارٹ ہی ہو۔ ادھر وہ اعلان کریں اور ادھر انتخاب کا اعلان ہو جائے۔ لانگ مارچ کی کامیابی کا تعین عوام کریں گے مگر شارٹ مارچ کا انحصار تو خواص پر ہے۔ عمران خان کے لانگ مارچ کے مقابلے میں سامنے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ ہیں۔ ان کے ڈائیلاگ کسی پنجابی فلم کے سکرپٹ سے اٹھائے گئے ہیں۔ بڑھکوں کے ساتھ ساتھ لانگ مارچ کے شرکا کے لیے آنسو گیس کی دھمکی بھی دی جاری ہے۔ 25 مئی کے ناکام لانگ مارچ کے بعد اس بار دونوں فریق پھر تیار ہیں۔ ڈفون کے ذریعے آنسو گیس پھینکنے کے اعلانات عوام تک پہنچائے جارہے ہیں۔ خواص کی طرف سے بھی ڈھکے چھپے اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ امن عامہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عمران خان بظاہر اب خود کو کسی بھی قسم کے اثر سے ماورا قرار دے رہے ہیں۔ مگر ان کی جانب سے لانگ مارچ کی کال دینے کے اعلان میں تاخیر سے اس کے برعکس صورتحال کی طرف اشارہ نظر آ رہا ہے۔ لانگ مارچ ان کی طرف سے ترکش کا آخری تیر ہے جس کو وہ اتنی آسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ لانگ مارچ میں ہر دو صورتوں میں عمران خان کے لیے رِسک ہے۔ اگر وہ لانگ مارچ نہ کریں تو اس کے بعد ان کے دعوؤں کا اثر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گا۔ ان کی سیاست کا خاصہ ان کا جارحانہ انداز ہے۔ اقتدار سے نکلنے کے بعد جس طرح انہوں نے فرنٹ فٹ پر آ کر پے در پے باؤنسر مارے اس کے نتیجے میں ان کے جہاں مخالفین کمزور پڑے وہاں ان کے حامیوں کی صفوں میں ایک نئی جان پڑ گئی۔
لہذا ماریہ میمن کہتی ہیں کہ اگر اب وہ ٹمپریچر بڑھا کر بغیر الیکشن کے اعلان کے لانگ مارچ کا ارادہ ملتوی یا منسوخ کرتے ہیں تو اس کے بعد یہی ترتیب الٹی ہو جائے گی۔ یعنی ان کے مخالفین کی ہمت بڑھے گی اور ان کے حمایتی مایوس ہوں گے۔دوسری طرف اگر وہ لانگ مارچ کرتے ہیں تو ان کی کامیابی کے امکانات ان کے حمایتیوں سے زیادہ حکومت کی حکمت عملی پر منحصر ہے۔ لانگ مارچ ان کا ٹرمپ کارڈ ہے۔ ابھی تک انہوں نے مارچ کے بعد دھرنے کا واضح اعلان نہیں کیا۔ دھرنے کے بغیر مارچ کچھ دنوں کی سرگرمی ہوگی جس کو گزارنا حکومت کے لیے اتنا مشکل نہیں ہو گا۔ لانگ مارچ عمران خان کے حلیفوں کا بھی امتحان ہو گا۔ فی الحال سب سے نمایاں حلیف تو ق لیگ اور وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہیں۔ ان کے فرزند مونس الٰہی کی سیاست تو واضح طور پر عمران خان کے ساتھ مگر چوہدری پرویز الٰہی یقیناً دل اور دماغ کے درمیان کشمکش میں ہوں گے۔ دل تو ان کا ظاہر ہے اپنے فرزند ارجمند کے ساتھ ہو گا مگر دماغ میں ان کے مفاہمتی سیاست کی گونج ہو گی۔ ابھی تک انہوں نے اپنے آپ کو عمران خان کے ساتھ زبانی کلامی وفاداری کا دم بھرتے ہوئے بھی ان کے فرنٹ فٹ والے بیانات سے علیحدہ رکھا ہے۔
ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کی طرف سے اپنی صوبائی حکومتوں کی اجتجاجی تحریک میں عدم دلچسپی پر بیانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ خصوصاً پنجاب حکومت اگر وفاق کو ٹف ٹائم دینے پر تُل جائے تو چند کلومیٹر کی اسلام آباد انتظامیہ پنجاب کی مشینری کے سامنے تو شاید ٹھہر نہ سکے۔ مگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ان کے تعاون کے بغیر نہ صرف انتظامی بلکہ علامتی طور پر بھی لانگ مارچ کا ممکنہ اثر نہیں ہو سکے گا۔ وہ بھی یہی چاہیں گے اگر مارچ ہو بھی تو شارٹ ہی رہے۔ اور اگر بات فوری الیکشن کی ہی ہو تو ان کی طرف سے اس پر عمران خان کے کہنے پر ایک منٹ میں پنجاب اسمبلی توڑنے کے دعوے کی تجدید میں بھی مزید بیانات سامنے نہیں آئے۔الیکشن کے بعد منظر نامہ کوئی بھی ہو، موجودہ حالات میں ق لیگ کے لیے سب سے بہتر سیاسی نقشہ ہے اس لیے ان کی ترجیحات واضح ہیں۔
عمران خان کی ترجیحات بھی واضح ہیں۔ شارٹ مارچ اور پھر الیکشن کا اعلان۔شارٹ مارچ کی کامیابی کی گارنٹی البتہ کم ہے اس لیے لانگ مارچ کے اعلان میں تاریخ پر تاریخ کی جاری ہے۔ ان کی سیاسی پوزیشن البتہ بدستور مستحکم ہے۔معیشت بدستور مخدوش ہے۔ ان کا بیانیہ بھی بدستور مقبول ہے۔ ہاں ان کی توقعات کی سطح بھی بلند سے بلند تر ہے خصوصا ًضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد سے ان کے مخالفین بھی ان کی مقبولیت کا لوہا مان چکے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا لانگ مارچ ان کو الیکشن اور اقتدار کی منزل تک پہنچا پائے گا یا ناکام رہے گا؟ فی الحال قرائن یہی بتاتے ہیں کہ شارٹ مارچ کے لیے تو وہ کمر کس چکے ہیں مگر شارٹ سے لانگ مارچ تک جانے کے بارے میں ابھی تک شش و پنج کا شکار ہیں۔
