3 ماہ میں 8 بینکوں نے مہنگا ڈالر پیچ کر 28 ارب منافع کمایا

ڈالر مہنگا ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ 8 بینکوں نے ڈالر کا ریٹ زیادہ کوٹ کر کے 3 ماہ میں 28 ارب روپے سے زائد کا منافع کمایا۔ ان بینکوں نے پورے مالی سال، یعنی 12 ماہ کے دوران 37 ارب روپے منافع کمایا تھا لیکن صرف تین ماہ میں 28 ارب روپے کما لیے۔ یاد رہے پاکستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران ڈالر کے ریٹ نے بڑھتے ہوئے جس طرح ماضی کے تمام ریکارڈ توڑے، اس سے ملکی معیشت اس لیول پر پہنچ گئی تھی کہ جہاں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا واضح امکان نظر آ رہا تھا۔ اب سٹیٹ بینک کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس کھیل میں مرکزی کردار 8 کمرشل بینکوں نے ادا کیا جنہوں نے اصل قیمت سے کہیں زیادہ پر ڈالر بیچا اور ملکی معیشت کا جنازہ نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بینکوں کی جانب سے ڈالر کے ریٹ کو مصنوعی طریقے سے اوپر لے جانے کی تصدیق کے بعد قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بینکوں کے نمائندوں کو بلا کر ان سے جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 28 جولائی 2022 کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جب ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 240 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم اس کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی اور اگست کے وسط میں ڈالر کی قیمت 213 روپے تک گر گئی تھی۔ ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بینکوں سے جولائی کے مہینے میں ڈالر کے ریٹ کو منصوعی طریقے سے اوپر لے جانے پر شو کاز نوٹس ایشو کیے گئے تھے۔ بلاشبہ بینک تجارتی سرگرمیاں کرتے ہیں اور اس پر پیسے کماتے ہیں لیکن جس طرح ڈالر کا ریٹ مصنوعی طور پر اوپر لے جایا گیا تھا اس معیشت کی تباہی مچا دی۔ بینکوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت مصنوعی طریقے سے کیسے بڑھایا گیا؟
اس سوال پر ذرائع نے بتایا کہ جب حکومت کو شکایات موصول ہوئیں کہ بینک ڈالر کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر وصول کرر ہے ہیں تو سٹیٹ بینک نے نگرانی شروع کر دی۔ اس سلسلے میں یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ ہر پانچ منٹ کے بعد ڈالر کی قیمت کو دیکھا جائے گا۔ اگر ڈالر کی قیمت 225 روپے تھی اور پانچ منٹ بعد اس میں کچھ پیسے یا ایک روپے تک کا بھی رد و بدل ہوتا تو یہ زیادہ فکرمندی کی بات نہیں تھی تاہم جب نگرانی کی گئی تو یہ معلوم ہوا کہ پانچ منٹ میں ڈالر کی قیمت میں پانچ سے دس روپے کا فرق نظر آیا۔ لیکن پانچ منٹ میں اتنا درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ نہیں آتا کہ ایک ڈالر پانچ سے دس روپے اچانک بڑھ جائے، چنانچہ پتہ چلا کہ 8 بڑے بینک ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے اوپر لے جا رہے تھے اور تین ماہ میں 28 ارب روپے کا منافع کما چکے تھے۔ ان بینکوں میں نیشنل بینک، الائیڈ بینک، بینک الحبیب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، میزان بینک، حبیب بینک، حبیب میٹرو بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں۔ لیکن ان لالچ کے مارے منافع خور بینکوں کا موقف ہے کہ انھوں نے فری مارکیٹ ایکسچینج ریٹ میکنزم کے مطابق کام کیا اور ڈالر کی طلب و رسد میں کمی بیشی کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوا۔
