عمران خان نے اداکارہ ہاجرہ خان کو کیسے پٹو ڈالا؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ماضی کی خوبرو اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے ریاست مدینہ کے دعوے دار عمران خان کااصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ اداکارہ نے اڈیالہ جیل کے مکین کی رنگین مزاجیوں کی داستان پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی تاہم اسے چھپنے نہ دیا گیا۔ ہاجرہ یامین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوامی طور پر نامور کرکٹر اور قومی ہیرو ہیں اور ان کے حامی انہیں مسیحا قرار دیتے ہیں تاہم ذاتی زندگی میں وہ بہت مختلف ہیں۔ میرا ان سے تعارف 2011 میں ہوا جب وہ سیاست میں ایک چھوٹے سے پریشر گروپ کی حیثیت سے موجود تھے۔ عمران خان کو نجی طور پر جاننا میرے لیے ایک سیاہ اور خوفناک تجربہ تھا اور انہیں اس وقت جاننے کی وجہ سے میرا کیریئر شدید مشکلات کا شکار ہوا۔ مجھے تنگ کرنے کیلئے مسلسل میرا پیچھا کیا گیانہیں مانی تو میرا کیریئر تباہ کردیا گیاآخرکارمجھےملک چھوڑناپڑا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حالیہ پوڈکاسٹ میں اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے بتایا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے قبل ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے عمران خان سے متعلق کچھ معاملات کی پیش گوئی کی تھی۔ یہ کتاب ایک بائیوگرافی ہے جو 2014 میں لکھی تھی جب میں شوبز سے بریک لے کر لندن چلی گئی تھی۔ یہ کتاب بینادی طور پر ایک کتھارسس تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اندر کے غصے اور غبار کو کہیں نکالنا چاہتی تھیں تب انہیں احساس ہوا کہ انہیں کتاب لکھنی چاہئیے۔ میری سوانح حیات عام لوگوں کے لیے ایک دلچسپ کہانی ہے کیونکہ میں ایک عام لڑکی تھی جو کوئٹہ سے آئی۔ میرے ماں باپ بھی عام سے لوگ تھے۔ میرا شوبز میں کام کرنا، پارٹیوں میں جانا، وہاں پر کسی بہت معروف شخصیت سے ملاقات ہونا اور پھر اس انسان کی جانب سے آپ کا پیچھا کیا جانا، یہ سب میرے تجربات تھے۔ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کہ آپ ہی مشہور لوگوں کے پیچھے پڑے ہوں۔ ہر کوئی ایسا نہیں ہوتا۔ میں کرکٹ کی شوقین تھی اور نا ہی سیاست سے کوئی لگاؤ تھا۔ لیکن ظاہر ہے کچھ لوگ ‘قومی ہیرو’ ہوتے ہیں تو آپ ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس وقت عمران خان پاکستان کے معروف کرکٹر تھے اور انہوں نے سیاست میں ایک چھوٹے سے پریشر گروپ کی حیثیت سے آغاز کیا تھا۔ تب وہ اتنے بڑے سیاست دان نہیں تھے۔ اب تو وہ ایک سابق وزیراعظم بھی ہیں۔ غالباً یہ 2011 کی بات ہے۔ میں نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی کیونکہ جب میں نے کتاب لکھی تو مجھے تب اندازہ نہیں تھا کہ میں کب واپس آؤں گی۔ کتاب بھی تب شائع نہیں ہوئی تھی کیونکہ جس ایجنسی کے ساتھ میں کام کر رہی تھی اور جو میری گھوسٹ رائٹر تھیں انہوں نے ایک بہت ہی مختصر اور مخصوص ناول کی صورت میں اس کو لکھا جو کہ اصل کتاب کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔

اداکارہ نے بتایا کہ عمران خان کو اس وقت جاننے کی وجہ سے میرا کیریئر بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہوا۔ بعد ازاں جب کتاب شائع ہوئی تو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میں کتاب کے بارے میں بھول گئی تھی۔ میں بہادر تھی کہ میں نے لکھی لیکن مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی تھی۔ کسی نے اس کتاب کے بارے میں سنا نہیں کیونکہ میں نے کبھی اس بارے میں بات ہی نہیں کی۔ 2014 میں لکھی کتاب کسی سیاسی ایجنڈا کے تحت تو نہیں لکھی تھی۔ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے کئی سال پہلے لکھی تھی۔ تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ وزیراعظم بن جائے گا اور بدقسمتی سے کتنا بڑا ‘حادثہ’ ثابت ہوا۔ عمران خان کے حمایتیوں نے جو اس کا ایک ‘مسیحا’ کا امیج بنایا ہوا ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ مجھے اس جنریشن کے لیے بہت برا محسوس ہو رہا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ ہمیں کسی کی نجی زندگی کے بارے میں تب تک علم نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم اس کو ذاتی طور پر جانتے نہ ہوں۔  عمران خان کو نجی طور پر جاننا میرا ایک بہت ہی سیاہ اور خوفناک تجربہ تھا۔ عمران خان کو جاننا میرے لیے مشکلات کا سبب بنا۔اداکارہ نے کہا کہ انھوں نے کتاب میں بتایا ہے کہ جب آپ ایسی پارٹی میں جائیں اور کوئی ‘قومی ہیرو’ یا کوئی معروف شخص آپ کا تعاقب کرے تب لگتا ہے کہ واہ کیا بات ہے۔ لیکن پھر جب آپ اس انسان کو ذاتی طور پر جاننے لگتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کتنی بدقسمتی ہے۔

ہاجرہ نے کہا کہ میں پہلی انسان تو نہیں ہوں جو یہ بات کر رہی ہوں۔ روز کوئی نہ کوئی ٹی وی پر بیٹھا عمران خان بارے کچھ کہہ رہا ہوتا ہے۔ کیا سب لوگ ہی جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا سب کی باتیں بے معنی ہیں؟ کیا سب لوگ ڈرے ہوئے ہیں؟ جو آج کا پاکستان ہے میں تو 9 سال پہلے اس کا حصہ نہیں تھی۔ جو آج ہو رہا ہے۔ میں ایک معمولی سی اداکارہ ہو کر کیوں سچ بول رہی ہوں؟ یہ میں نے 2014 میں کیا تھا۔ ہر کسی کو جمہوری حق ہے جس کی مرضی حمایت کرے۔میں نے اپنے والد کو تحریک انصاف میں متعارف کروایا تھا لیکن مجھے درحقیقت اپنے والد کا تعارف کروانے پراور انھیں پی ٹی آئی کا حصہ بنانے پر شرمندگی ہے۔ لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ لیکن ان کو اس پارٹی میں لانے پر مجھے بہت افسوس ہے۔ ہاجرہ خان کے مطابق مجھے لگا تھا کہ چلو ذاتی زندگی میں عمران خان نے برا کیا ہے لیکن عوام کے لیے کچھ اچھا کیا ہو گا لیکن آپ دیکھیں کہ آج ہم لوگ کہاں کھڑے ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ میں کبھی ماضی پر نظر ڈالتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ میرے لیے تو برا تجربہ تھا۔ بہت سے لوگوں کے کیریئر عمران خان کی وجہ سے متاثر ہوئے لیکن میرا ملک بھی بہت متاثر ہوا۔ میں بہت سی بری یادوں اور تجربات کے ساتھ جی رہی ہوں جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔

Back to top button