عمران خان نے مریم نوازکو باہر بھجوانے سے پھر انکار کردیا

وزیراعظم عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مریم نواز شریف کو اپنے والد نوازشریف کے پاس بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی سفارش ایک بار پھر مسترد کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان پر ایسے فیصلے کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے جس سے ان کی سیاسی ساکھ پر حرف آئے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شہباز شریف کی جانب سے رابطہ کئے جانے کے بعد دوبارہ وزیراعظم کوسفارش کی تھی کہ وہ مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دیں تاکہ وہ نواز شریف کے آپریشن کے وقت اپنے والد کے پاس موجود ہوں۔ تاہم عمران خان نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ پہلے ہی شہباز شریف اور نواز شریف کے بیرون ملک چلے جانے سے تحریک انصاف حکومت کا احتسابی بیانیہ بری طرح متاثر ہوا ہے لہذا وہ اس معاملے میں مزید رعایت اور لچک نہیں دکھا سکتے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے تو اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات بھی یاد دلائی کہ نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے وقت وہ یہ کہہ چکےہیں کہ مریم نواز گارنٹی کے طور پر پاکستان میں رہے گی لہذا اب یہ ممکن نہیں کہ اسے لندن جانے کی اجازت دےدی جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا جس کا مقصد انہیں ملک سے باہر نکالنا تھا۔ کپتان مزید سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی لندن کے ہوٹلوں اور پارکوں میں گھومنے پھرنے کی ویڈیوز اور تصویریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی صحت اتنی خراب نہیں ہے جیسا کہ تاثر دیا جارہاہے۔ کپتان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے نواز شریف کو علاج کے لیے دئیے جانے والے آٹھ ہفتوں کا وقت پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب تو حکومت نے نواز شریف سے میڈیکل رپورٹس مانگ رکھی ہیں جو یہ ثابت کرسکیں کہ ان کو ابھی بیرون ملک مزید علاج کی ضرورت ہے۔
لہذا کپتان سمجھتے ہیں کہ اگر مریم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس سے نوازشریف کو ملک واپسی کا رہا سہا امکان بھی ختم ہوجائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کے بیرون ملک جاتے وقت بھی مریم کو ساتھ بھیجنے کی سفارش کی تھی لیکن عمران خان نے تب بھی انکار کیا تھا اور اب بھی ان کا یہی موقف ہے کہ اگر مریم کو بھی لندن جانے دیا گیا تو نواز شریف کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
اب تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے صاحبزادی مریم نواز کے لندن آنے تک دل کا آپریشن کرانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بیٹی کی غیر موجودگی میں آپریشن نہیں کرواؤں گا۔ سابق وزیراعظم نے اپنی خواہش سے متعلق ڈاکٹروں کو آگاہ کر دیا ہے۔ نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد شہباز شریف نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مریم نواز شریف کو لندن اپنے والد کے پاس جانے کی اجازت دے تا کہ وہ ان کے دل کے آپریشن کے وقت ان کے پاس موجود ہوں ۔
