عمران خان کا انتخابی سیاست سے مکمل آؤٹ ہونے کا امکان

عمران خان اپنے ماضی کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی انتخابی سیاست سے آئوٹ ہوتے نظر آتے ہیں۔فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کے بعد اپنی ناجائز بیٹی ٹیریان وائٹ بارے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرایا گیا جواب عمران کے گلے کا طوق بن چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹیریان وائٹ کیس میں عمران کی نا اہلی نوشتہ دیوار ہے۔ عمران خان کے قومی اسمبلی کے 33 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے اعلان سے یوٹرن لینے کی وجہ بھی ٹیریان وائٹ کیس قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن سے قبل عمران خان کو اب کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت بچوں کی تعداد بتانی پڑے گی۔ اگر وہ کسی بچے کو چھپاتے ہیں تو یہ غلط بیانی کے زمرے میں آئے گا، پھر یہ اسی نکتے پر نااہل ہو جائیں گے اور اگر سچ بول کر بیٹی کو تسلیم کرتے ہیں صادق و آمین نہ ہونے کی بنا پر ان کی نااہلی یقینی ہے۔ اسی بنا پر عمران خان نے ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی وجہ سے عمران خان پاکستان کی انتخابی سیاست سے آؤٹ ہوتے نظر ہیں۔
نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی افتخار احمد کے مطابق عمران خان کو اس وقت نااہل ہونے کا ڈر ہے، اب وہ دور گزر گیا جب ان کو عدالتوں سے پہلے والا ریلیف ملتا تھا۔ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں بچوں کی کل تعداد کو ظاہر نہیں کیا۔ آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق ایک اچھا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے۔ عمران خان کو اب کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت بچوں کی تعداد بتانی پڑے گی۔ اگر وہ کسی بچے کو چھپاتے ہیں تو یہ غلط بیانی کے زمرے میں آئے گا، پھر یہ اسی نکتے پر نااہل ہو جائیں گے۔ شریعت کے حساب سے اس بچے کی حیثیت کو دیکھنا پڑے گا جس کا جواب عمران خان نہیں دے پائیں گے۔ اسی بنا پر عمران خان نے ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت آپ کو اپنے بچوں کو ظاہر کرنا پڑے گا۔ پھر اس ملک کے اسلامی قوانین کے تحت اس بچے کی قانونی حیثیت کو بھی ثابت کرنا پڑے گا۔ اس کی ایک تو سیاسی سزا ہو گی اور دوسری اسلامی سزا بھی ہو گی۔
دوسری طرف عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے 33 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کو سیاسی مبصرین ان کا ایک اور بڑا یو ٹرن قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد اپنی فوری نااہلی سے بچنا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی راجن پور کے حلقے سے واپس لینے اور دیگر حلقوں سے بھی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ان کی مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ہے جس میں انہیں اپنی بیٹی چھپانے پر نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔ عمران خان نے عدالت میں ٹیریان کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے یا نہ کرنے بارے کوئی دو ٹوک موقف نہیں اپنایا بلکہ کیس اس بنا پر خارج کرنے کی استدعا کی ہے کہ وہ اس وقت اسمبلی کے رکن ہی نہیں ہیں اس لئے ان کے خلاف کیس نہیں بنتا ، ماہرین قانون کا بتانا ہے کہ اگر عمران خان ضمنی الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو اس کے لئے جمع کرواۓ جانے والے کاغذات نامزدگی میں انہیں اپنے اہل خانہ کی تفصیل بھی دینا ہو گی، اگر عمران خان کاغذات نامزدگی میں ماضی کے موقف کے برعکس ٹیریان کو اپنی بیٹی تسلیم کر لیتےہیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس میں وہ ایک طرف تو فوری طور پر نا اہل ہو جائیں گے تو دوسری طرف ان کو سالہا سال تک قوم کو دھوکہ دینے کا مرتکب بھی قرار دیا جاۓ گا ،ان کا یہ اعتراف سیاسی مخالفین کے پاس ترپ کا ایک پتا ثابت ہو گا جو وہ عمران خان کا پورا کھیل الٹانے میں استعمال کریں گے ،اس طرح ان کو جھوٹا اور دھوکے باز قرار دے کر ان کے ذاتی اور سیاسی کردار کو داغدار بنا دیا جاۓ گا،دوسری طرف عمران خان کاغذات نامزدگی میں اگر ٹیریان کو ایک مرتبہ پھر اپنی بیٹی ڈکلئیر نہیں کرتے اور مستقبل میں اسلام آباد ہائی کورٹ امریکی عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ان کے خلاف فیصلہ دے دیتی ہے تو عمران خان غلط بیا نی کرنے پر نا اہل ہو جائیں گے اور ان کی ممکنہ طور پر جیتی ہوئی سیٹیں بھی اکارت جائیں گی جبکہ تحریک انصاف شدید سیاسی دھچکے کا سامنا بھی کرے گی۔
واضح رہے کہ ٹیریان وائٹ کے بارے میں سیتا وائٹ کا دعویٰ تھا کو وہ عمران کی اولاد ہے لیکن خان نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔ٹیریان کی والدہ سیتا وائٹ نے اپنی زندگی میں بیٹی کی پیدائش کے بعد ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح عمران خان اس کی بیٹی کو اپنا لیں تاہم عمران خان کے ٹیرن کو بیٹی ماننے سے انکار پر سیتا وائٹ نے اس حوالے سے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیااور 7 سال بعد 2004 میں امریکی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو ٹیریان کا باپ قرار دے دیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ آنے کے کچھ ہی دنوں بعد سیتا کی موت واقع ہو گئی۔ ٹیریان لندن میں جمائما کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی مرر (Mirror) کے مطابق عمران کی سابقہ اہلیہ جمائما اور ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کے ساتھ ٹیرن ایک فیملی کی طرح خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جنوری میں پی ٹی آئی کے 113 اراکین اسمبلی کے استعفے تین مراحل میں منظور کیے تھے اور الیکشن کمیشن نے ان نشستوں کے خالی ہونے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرتے ہوئے 33 حلقوں میں 16 مارچ کو ضمنی الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کیا تھا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے شیڈول جاری ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے تمام 33 حلقوں سے پارٹی چیئرمین عمران خان کے امیدوار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان تمام حلقوں سے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوں گے۔تاہم اب ان ضمنی انتخابات کے حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔عمران خان نے سابقہ اراکین اسمبلی کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور انتخابی مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔واضح رہے کہ عمران خان نے گزشتہ سال پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہونے والی 7 نشستوں سے خود الیکشن لڑا تھا اور 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہےتھے۔
