عمران خان کی حکومت اور کتنے ہفتوں کی مہمان ہے؟


سال 2021 نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کی سیاست اور حکومت کے لیے بدترین ثابت ہوا بلکہ پاکستانی عوام کے لئے بھی مشکل ترین سال ثابت ہوا کیونکہ اس دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت کے ہاتھوں زخم خوردہ عوام جھولیاں اٹھا کر عمران کو بد دعائیں دے رہے اور انکے گھر جانے کی افواہوں میں تیزی چکی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے جلد وطن واپسی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ عمران کو اقتدار میں لانے والے اب ہم سے سوال کر رہے کہ اسے کیسے باہر نکالیں؟
آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب "وہ” کہتے ہیں کہ اس سے جان چھڑانے کا کوئی فارمولہ تو بتائیں لیکن میں نے انہیں صاف کہہ دیا ہے کہ فارمولہ وغیرہ کوئی نہیں ہے۔ انہی فارمولوں کی وجہ سے ملک آج اس حال کو پہنچا ہے۔ یہ سب فارمولے بنانے والوں کا ہی کیا دھرا ہے۔ اب صرف ایک ہی راستہ ہے کہ پہلے اسے نکالیں اور پھر ہم سے بات کریں۔
نیا دور پر شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری کے یہ جملے انتہائی معنی خیز ہیں۔ انہوں نے تو نام نہیں لیا لیکن عوام جانتے ہیں کہ انکا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف تھا۔ وہ واضح بتا رہے ہیں کہ لانے والے اب عمران حکومت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مدد کے متمنی بھی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بار بار دھوکہ کھانے کے بعد اب اپوزیشن بھائی لوگوں پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں لہذا وہ ملک چلانے کا فارمولہ بھی تبھی نکال کر دے گی جب عمران خان کی حکومت کو چلتا کر دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ عمران خان اس وقت اپنی مقبولیت کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ یوں کہا جائے کہ یہ سال 2021 ان کے سیاسی کریئر کا بدترین سال بن کر سامنے آیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے ناصرف سال کی ابتدا میں ہی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو دی تھی بلکہ سال کا اختتام بھی تقریباً اسی جگہ پر ہو رہا ہے۔ سال کی ابتدا میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم متحد تھی، جلسے پر جلسہ ہو رہا تھا، اور عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ پھر ضمنی انتخابات کا موسم شروع ہوا۔ شدید ترین دھاندلی کے باوجود ڈسکہ کا انتخاب بمشکل پی ٹی آئی رات کے کسی پہر جیتی تو الیکشن کمیشن نے نتیجہ ہی کالعدم کر دیا اور پھر اسے یہاں بھی بدترین شکست ہوئی۔ اپنے گڑھ نوشہرہ سے اسے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ کراچی میں فیصل واؤڈا کی جیتی ہوئی نشست پر یہ چھٹے نمبر پر آئی۔ اور سب سے بڑا دھچکا تو سینیٹ میں لگا کہ جب اسلام آباد کی سینیٹ کی سیٹ پر عمران خان حکومت اپنا امیدوار قومی اسمبلی سے منتخب نہ کروا سکی اور پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی ناصرف اپوزیشن کے بلکہ بڑی تعداد میں تحریکِ انصاف کے اراکین کے ووٹ بھی لے کر سینیٹر منتخب ہو گئے۔ یہ درحقیقت تو ویسے ہی حکومت کے لئے تحریکِ عدم اعتماد لائے بغیر ایوان کے عدم اعتماد کا اظہار تھا کہ حکومت ایوان میں اکثریت کھو چکی ہے لیکن غیر رسمی طور پر۔
سینئیر صحافی علی وارثی کے مطابق عمران خان نے اس ہزیمت سے بچنے کا سامان کچھ یوں کیا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ بھی کچھ دوستوں کی مہربانی تھی وگرنہ کئی اپوزیشن اراکین ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو اس دن ہی حکومت ختم کر سکتے تھے لیکن کہیں سے آواز تھی کہ پہلے پنجاب، پھر وفاق۔ اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نواز لیگ اس کے لئے تیار نہ تھی کیونکہ پنجاب میں بھی اس کے بغیر تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کتوانا ناممکن تھا اور وفاق میں بھی عدم اعتماد کی کنجی اسی کے پاس تھی۔
تاہم اس کے بعد حکومت کو قدرے آسانی میسر آئی۔ پی ڈی ایم ٹوٹ گئی اور عوامی سطح پر کوئی بڑا سیاسی محاذ اس کے سامنے کھڑا نہ تھا۔ لیکن اس خلا کو مہنگائی نے پورا کیا کہ جب لمبی لمبی قطاروں میں لگے عوام ایک طرف تو آٹے، چینی کی قلت کو رو رہے تھے تو دوسری جانب جنہیں یہ اشیا میسر بھی تھیں وہ بھی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر نالاں تھے۔ اپریل میں تحریکِ لبیک کے سربراہ کو جیل میں ڈال کر اک ایسا پنگا لیا گیا جس سے اس وقت بھی حکومت بمشکل ہی نبرد آزما ہو پائی تھی۔ اور پھر یہ جن اکتوبر میں پھر بوتل سے باہر آ گیا۔ اور ایک موقع پر تو لگتا تھا کہ حکومت کے ساتھ کچھ خوفناک ہی کر جائے گا۔ تبھی جنرل باجوہ نے مداخلت کر کے مذاکرات کو کامیاب کروایا اور یہ خطرہ ٹل گیا۔ لیکن اس دوران عمران خان نے فوجی اسٹیبشلمنٹ سے بھی نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے پر پر پنگا ڈال لیا اور اسے لٹکا دیا۔ خان صاحب نے وہ حربہ استعمال کیا جو محلے کی کرکٹ میں بچے کرتے ہیں کہ یہ میرا بیٹ ہے، اور میں اسے گھر لے جا رہا ہوں، اب تم مجھے کھیل کے دکھاؤ۔ انہوں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے تبادلے کے نوٹیفکیشن پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ دونوں کی لڑائی جیسی بھی رہی ہو، نتیجہ وہی آیا جس کا سب کو پتہ تھا۔ 29 نومبر کو فیض کا فیض عام ختم ہو گیا اور عمران خان تنہا رہ گئے۔ لیکن سال کے اختتام پر انہیں جمعیت علمائے اسلام نے وہ دھچکا پہنچایا ہے کہ جس سے سنبھلنا شاید اب ناممکن ہوگا۔ دو چیزیں اہم ترین ہیں۔ عمران خان نے جتنا پچھلے دس سالوں میں مولانا فضل الرحمان کا مذاق اڑایا، جس طرح سے جلسوں میں ان کے خلاف نعرے لگوائے، کسی اور مخالف کے بارے میں ایسا نہیں کیا۔ اسی مخالف سے ایسی شکست کھانا، اور وہ بھی اپنے گڑھ میں۔۔۔ ایسی پٹخنی کے بعد عموماً پہلوان دوبارہ اٹھا نہیں کرتے۔ اب ایسے میں اگر زرداری صاحب کہہ رہے ہیں کہ پہلے اسے نکالو، پھر ہم سے بات کرو تو اس کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ سیاسی طور پر عمران حکومت اب کے کام کی نہیں رہی جو اسے عوام کی مرضی کے برخلاف اقتدار میں لائے تھے۔ لہذا جس دن عمران کو اقتدار میں لانے والے بھائی لوگوں حکومتی اتحادیوں کو ان کا ساتھ چھوڑنے کا اشارہ کریں گے، کپتان حکومت دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔ اس دوران اپوزیشن ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اب صرف چند ہفتوں کی مہمان ہیں، اور جیسے ہی تحریک عدم اعتماد آئے گی خان صاحب کی چھٹی ہو جائے گی۔

Back to top button