نواز شریف خود واپس آ رہے ہیں یا انہیں بےدخلی کا خطرہ ہے؟

نواز شریف کی جانب سے جلد وطن واپسی کے اعلان اور عمران خان کی جانب سے سے انہیں چوتھی بار اقتدار میں لانے کا الزام سامنے آنے کے بعد اب کچھ حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ دراصل میاں صاحب برطانیہ سے بے دخل کیے جانے کے خطرے کے باعث واپس آنے کا سوچ رہے ہیں۔ دوسری جانب لندن میں موجود لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی باتیں بے بنیاد ہیں اور نواز شریف اپنی مرضی سے وطن واپس آئیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کے بڑبولے مشیرخاص شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ میاں صاحب کو برطانوی ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد بے دخل کیا جا رہا ہے لہذا اب وہ واپسی کے اعلانات فرما رہے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں مقیم امیگریشن ماہرین کے مطابق نواز شریف کی برطانیہ سے ویزہ بنیادوں پر بے دخلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکام نے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور ویسے بھی ان کے پاس ویزہ میں توسیع کی نئی درخواست دینے کے علاوہ اپیل کا حق بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کا شور تب مچنا شروع ہوا جب انہوں نے لندن سے اپنے ایک ویڈیو لنک خطاب میں الواداعی کلمات کہتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے کہ آپ سے جلد پاکستان میں ملاقات ہوگی۔‘
نواز شریف کے اس بیان کے بعد حکومتی ایوانوں میں ایسی ہلچل مچی کہ وزیر اعظم بھی پریشان ہوگئے اور یہ انکشاف کر دیا کہ مقامی ’نواز شریف کی سزا اور نااہلی ختم کرنے کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں تاکہ اسے چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنایا جا سکے۔‘
دوسری جانب مسلم لیگی حلقے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک جانب عمران خان پچھلے دو برسوں سے یہ شور مچا رہے ہیں کہ نواز شریف وطن واپس کیوں نہیں آتے، لیکن اب جب انہوں نے واپسی کا اعلان کردیا ہے تو موصوف فرماتے ہیں کہ وہ واپس کیوں آرہے ہیں۔ ایک جانب عمران خان کا موقف ہے کہ نواز شریف سازش کے تحت واپس آرہے ہیں تو دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ وہ مجبوری میں واپس آرہے ہیں تاکہ بے دخلی سے بچ سکیں۔ حکومتی لوگ یہ تاثر دے رہے کہ جنوری میں نواز شریف کی برطانیہ میں قیام کے لیے ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اپیل بھی خارج ہو گئی ہے، اس لیے وہ اپنی بے دخلی کو پاکستان آنے کا پلان بتا رہے ہیں۔ شہباز گل نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’نواز شریف کی ویزہ توسیع کی درخواست مسترد ہو چکی ہے، اس وقت اپیل میں ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ انکو ویزہ درخواست مسترد کر کے بے دخل کر دیا جائے گا اس لیے نواز شریف کے بے دخل ہونے کو ان کا واپس آنے کا سیاسی فیصلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن شہباز گل نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اطلاع برطانوی حکام نے نواز شریف کو دینے کی بجائے انہیں کیوں دی اور ابھی تک اس کا اعلان کیوں نہیں ہو پایا ۔
دوسری جانب اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مقیم امیگریشن ماہرین کے مطابق نواز شریف کو امیگریشن بنیادوں پر برطانیہ سے ڈی پورٹ ہونے کا کوئی خدشہ لاحق نہیں ہے۔ اپیل مسترد ہونے کے باوجود ان کے پاس برطانیہ میں قیام کے متعدد آپشنز موجود ہیں۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی وکیل عقیل حسین کیانی نے بتایا کہ ’نواز شریف کی اپیل اس وقت امیگریشن ٹریبونل کے اپر ٹریبونل میں ہے جہاں درخواست یہ ہوتی ہے کہ لوئر ٹریبونل میں قانون کا درست اطلاق نہیں کیا گیا۔ اگر اپر ٹریبونل سے بھی درخواست مسترد ہو جائے تو قانون کے مطابق یا تو 14 روز میں ملک چھوڑنا ہوتا ہے یا پھر نئی درخواست دینا پڑتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اگر ان کی درخواست مسترد ہو جائے اور اس کے باوجود وہ برطانیہ میں رہنا چاہیں تو نئی درخواست دے سکتے ہیں۔‘ عقیل حسین کیانی کے بقول چونکہ نواز شریف ایک ہائی پروفائل سیاسی شخصیت ہیں لہٰذا وہ نظر ثانی کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔ انکے پاس سیاسی پناہ مانگنے کا آپشن بھی موجود ہے لیکن وہ کسی بھی صورت ڈی پورٹ نہیں ہو سکتے اور اس حوالے سے حکومتی مشیر ان بالکل غلط بات کر رہے ہیں۔ انکا۔ل کہنا تھا کہ اگر اپر ٹریبونل سے درخواست مسترد ہونے کے بعد نواز شریف زیادہ وقت لینا چاہیں تو نئی درخواست دیں گے ورنہ انکے پاس کورٹ آف اپیل کا آپشن بھی موجود ہے۔ وہ نئی درخواست دیں تو سال ڈیڑھ سال آسانی سے گزار سکتے ہیں۔‘
لندن میں موجود نواز شریف کے ایک انتہائی قریبی ساتھی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اگر میاں صاحب واپس جانا چاہیں تو اسکی سیاسی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی انھیں مجبور کرکے برطانیہ سے بے دخل نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے پاس تمام قانونی آپشنز موجود ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کے بچے بھی برطانیہ میں مقیم ہیں اور نئے قانون کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے والدین زیر کفالت افراد کی کیٹگری میں آتے ہیں اس لیے وہ بھی درخواست دے کر نواز شریف کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت لے سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ویسے بھی نواز شریف کی اپیل مسترد ہونے کے باوجود انھیں ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا پاسپورٹ زائد المیعاد ہے۔ برطانوی امیگریشن قانون کے مطابق کسی فرد کو اس وقت تک ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے پاس valid سفری دستاویز یعنی پاسپورٹ ہو۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی نے بتایا کہ میاں صاحب نئی درخواست یا کورٹ آف اپیل میں جانے کا حق رکھتے ہیں تاہم سیاسی پناہ مانگنے میں ان کے لیے مسائل ہیں اس لیے وہ یہ آپشن استعمال نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف برطانیہ میں توسیع کے لیے کورٹ آف اپیل یا نئی درخواست دے کر اپنا قیام طویل تو کر سکتے ہیں لیکن سیاسی پناہ کے لیے انھیں انٹرویو وغیرہ کے پروسیس سے گزرنا پڑے گا جو تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کے لیے ہتک آمیز ہوگا۔ اس لیے وہ سیاسی پناہ کی آپشن کا استعمال نہیں کریں گے۔
