عمران خان کی دھمکیوں نے پولیس مورال کیسے متاثر کیا

منتقم مزاج عمران خان کی خواہش پر چوہدری پرویز الٰہی حکومت کی جانب سے پنجاب پولیس کے سینئر افسران کے خلاف انتقامی کارروائیوں نے پولیس فورس کے مورال کو متاثر کرنے کے علاوہ اس میں انتشار اور تقسیم کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت حاصل کرنے کے بعد عمران خان کی ہدایت پر چوہدری پرویز الٰہی نے 200 سے زیادہ سینئر پولیس افسران کو نشان عبرت بتاتے ہوئے عہدوں سے ہٹا دیا تھا جبکہ دو درجن سے زائد پولیس افسران کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی گئی تھی۔ ان افسران پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے احکامات پر 25 مئی کو عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان پر پولیس کی جانب سے تشدد کیا گیا۔
پنجاب حکومت حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد میں ایک مجمع سے خطاب میں عمران خان نے گرجتے ہوئے کہا تھا کہ ’شرم کرو آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی۔ تمہیں تو ہم نے نہیں چھوڑنا، تم پر تو ہم نے کیس کرنا ہے۔ عمران خان کی جانب سے کھلے عام پولیس افسران کو دھمکیوں کے بعد سے پولیس فورس میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ ہر افسر عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہوگیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا بنیادی مقصد پولیس والوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ انکے مطابق اس طرح کی دھمکیاں نہ صرف پولیس کو سیاسی بنائیں گی بلکہ افسران کو عمران کے سیاسی حریفوں کے ساتھ صف بندی پر بھی مجبور کر دیں گی جو اس وقت مسلم لیگ (ن) ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے وہ دیکھیں گے کہ ہماری بقا اب ایک پارٹی کے ساتھ ہے تو ہم اس پارٹی کے لیے زیادہ کام کریں۔
یاد رہے کہ اپریل میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان نے پہلی مرتبہ پولیس کو نشانہ نہیں بنایا۔ 28 جون کو بھی ایک خطاب میں انھوں نے پنجاب پولیس کو براہ راست پیغام دیا۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس نے حکومت کی ہدایات پر ان کے سیاسی ورکرز پر تشدد کیا۔ اس ضمن میں عمران خان نے ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا۔اپنے خطاب میں عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب کوئی چیز چھپی نہیں رہتی، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ سب کی شکلیں ہمیں پتا ہیں جن پولیس افسروں نے ظلم کیا۔‘ انھوں نے پولیس افسران کو مزید خبردار کیا کہ وہ ان کی سیاسی جماعت کے خلاف ’غیر قانونی اقدامات‘ نہ کریں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کا کہتے ہوئے پوچھا کہ عمران کی ’غیر قانونی احکامات‘ سے کیا مراد تھی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی پولیس سیاسی ورکرز کو گرفتار کرنے والا کام شوق سے نہیں کرتی لیکن پولیس کو کرنا پڑتا ہے۔حکومت کا حکم ہوتا ہے، اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ سینئر پولیس افسر متفق تھے کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو وہ اپنے مخالفین کے خلاف پولیس کو استعمال کرتی ہے جو کہ حکم کی غلام ہوتی ہے۔ لیکن مسلسل پولیس کو یوں ہدف بنانا سپاہی اور افسران دونوں کے مورال پر اثر ڈالتا ہے۔ ایک اور پولیس اہلکار نے اعتراف کیا کہ ایسے بیانات کی وجہ سے جونیئرافسران سیاسی گرفتاریوں کے حوالے سے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے میدان عمل میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں تعینات ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کے بیانات دے کر سابق وزیر اعظم پولیس فورس میں انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ آپ شاید ایک ایسی فورس کے اندر تقسیم پیدا کر رہے ہیں جو وردی پوش مسلح ہے اور اس کی بنیاد صرف احکامات اور نظم و ضبط پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرض کیجیے کہ کل اگر پولیس کو عمران خان کی گرفتاری کا کہا جائے گا تو وہ یقیناً ایسا کرتے ہوئے ہچکچائے گی۔
اسلام آباد کے ایک سینئرپولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس ایک آسان ہدف ہے، ہمارا دفاع کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر عمران خان کسی دوسرے ادارے کے کسی سینئر افسر کا نام لیں تو وہ ان کو لائن پر لے آئیں۔ ایک طرف اگر عمران آئی جی اسلام آباد اور دیگر پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا وعدہ کر چکے ہیں تو دوسری طرف ایک پولیس اہلکار 25 مئی واقعے کے بعد نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایس ایچ او عابد حسین کو فیصل آباد میں پی ٹی آئی کی خواتین مظاہرین پر پستول تانے دیکھا جا سکتا ہے۔ عابد حسین کی پنجاب پولیس میں 20 سال کی سروس کو ختم کرتے ہوئے نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ عابد حسین کا اصرار ہے کہ وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں اور وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز نے اس واقعہ کی پوری ویڈیو نہیں دکھائی جس میں وہ حالات و واقعات واضح ہیں جس کی بنا پر وہ اپنا پستول نکالنے پر مجبور ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ آدھا گھنٹہ میں کوشش کرتا رہا کہ موٹر وے پر معاملات پرامن رہیں۔ کسی نے یہ نہیں دیکھایا۔ کسی نے نہیں دکھایا کہ عورتوں نے میرا یونیفارم پھاڑا اور پھر میں نے بھی اپنے دفاع میں ردعمل دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی نئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے تو وہ سب سے پہلے پولیس فورس میں ردوبدل کرتی ہے۔ جولائی 2018 کے بعد سے پنجاب کے انسپیکٹر جنرل پولیس کو آٹھ بار تبدیل کیا گیا۔ حمزہ شہباز کے 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد پولیس فورس میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ پھر جولائی میں پرویز الٰہی نے حمزہ شہباز کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو پولیس کو دوبارہ ردوبدل کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد محض تین دن میں 200 سے زائد پولیس اہلکاروں کے تبادلے کیے گئے۔
