عمران خان کی گندی آڈیوز اور ویڈیوز کون اور کیوں لیک کرر ہا ہے؟

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اس وقت یہ سوال زیر بحث کہ ہر وقت ہاتھ میں تسبیح لے کر خود کو پرہیز گار ثابت کرنے والے عمران خان پر یہ وقت کیوں آیا کہ انہیں وزیر اعظم بنانے والے آج ان کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کی خاطر ان کی آڈیو لیکس کر رہے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا داعی ایک ٹرپل ایکس پورن سٹار قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں آج کل سیاست دانوں کی آڈیو لیکس کا ایک خطرناک سلسلہ چل پڑا ہے اور اس میں خصوصاً ایک ایسے وقت میں مزید تیزی آگئی ہے جب پہلے ہی سیاست بہتان تراشیوں اور فحش گوئی کی زد میں ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی چند خواتین کے ساتھ نہایت غلیظ گفتگو پر مبنی تازہ آڈیو لیکس نے ماحول کو مزید پراگندہ کر دیا ہے اور اب ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ موصوف کی گندی وڈیوز بھی لیک ہونے والی ہیں۔ سیاسی افراد کی نجی زندگی کے بارے میں خبریں اور تصاویر پہلے سے پاکستانی میڈیا میں گردش کرتی آ رہی ہیں۔

نیا دور کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ایجنسیز سیاستدانوں کو کنٹرول اور بلیک میل کرنے کے لئے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتی رہی ہیں۔ افسوس کہ جب کسی سیاستدان کے بارے میں ایسا کوئی غیر اخلاقی مواد لیک ہوتا ہے تو وہ اس غیر اخلاقی حرکت کو اجتماعی طور پر روکنے کی بجائے اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف جب اسٹیبلشمنٹ کے قریب تھے تو ان کے ساتھی محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔ ہمارے سیاست دان اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیز کے سیاسی کردار کے بارے میں مسلسل اور بے تحاشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ ادارے انہیں اچھے لگتے ہیں جب وہ انکے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہو رہے ہوں لیکن جیسے ہی ان کی توپوں کا رخ ان کی طرف مڑتا ہے تو انہیں ان اداروں کی آئینی حدود کا خیال آنا شروع ہو جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا، ان کے قلیل مدتی مفادات ہوتے ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے کوئی بھی ان کی زد میں آ سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سیاستدانوں کی نجی ویڈیوز اور آڈیوز کا ایک باقاعدہ اور منظم سلسلہ شروع ہوا۔ جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما زبیر عمر کی فحش ویڈیوز لیک کی گئیں تو تب تحریک انصاف کے رہنماؤں سے لے کر ان کے حمایتیوں تک سب نے انکا خوب ٹھٹہ اڑایا۔ تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے زبیر عمر کو شرمندہ کرنے کے لئے بے شرمی کی ہر حد عبور کی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اکثر مریم نواز کی آڈیو لیک کی پیشگی اطلاع دیا کرتے تھے کہ ایک اور آڈیو آ رہی ہے۔ حالانکہ وہ آڈیو لیکس سیاسی ہوتی تھیں لیکن عمران خان مریم نواز کی ہر آیڈیو لیک کا کریڈٹ لیا کرتے تھے اور عوامی جلسوں میں انکا تمسخر اڑاتے تھے۔ تب سب کچھ ون پیج پر تھا اور عمران سمیت پوری تحریک انصاف کو یہ زعم تھا کہ اداروں کی حمایت اور ان کا دست شفقت ان پر ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔ مگر مکافات عمل بھی ایک حقیقت ہے؟

لہٰذا آج ادارے بھی وہی ہیں، اور انکا طریقہ واردات بھی وہی ہے مگر اس کا نشانہ بننے والے ملک میں سستی تبدیلی کے سرخیل عمران خان ہیں۔ آج کل ان کی آڈیو لیکس کا دور چل رہا ہے۔ عمران خان کی عائلہ اور فریحہ کے ساتھ تازہ آڈیو لیکس نے تو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار کپتان کو بری طرح بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دو مختلف خواتین کے ساتھ لیک ہونے والی غلیظ ترین ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیوز نے ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار کا رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا ہے۔ موصوف جس قسم کی گھٹیا گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں، وہ کوئی نارمل شخص نہیں بلکہ جنسی ہوس کا مارا ہوا کوئی ذہنی بیمار ہی کر سکتا ہے۔ ابھی چند ہی روز پہلے عمران خان نے ایک تقریر میں سوال کیا تھا کہ کیا خفیہ ایجنسیوں کا کام لوگوں کی خفیہ ویڈیوز اور آڈیوز تیار کرنا ہے، لہٰذا لگتا ہے کہ انہیں انکے سوال کا جواب مل گیا ہے۔

یاد رہے کہ عمران کی جن دو خواتین کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوئی ہے وہ ان کیساتھ جنسی انکاؤنٹر کے تجربات پر مبنی ہے۔ ان آڈیوز میں سیکس ٹوائز Sex Toys کا تذکرہ بھی ہے اور گروپ سیکس Group Sex کا بھی۔عمران خان کی یہ گفتگو اتنی اخلاق بافتہ ہے کہ سننے والے کے کانوں سے دھواں نکل جاتا ہے تاہم یہ دو آڈیوز موصوف کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہاتھ میں ہر وقت تسبیح لے کر خود کو پاک باز ثابت کرنے والے کپتان پر یہ وقت کیوں آیا کہ پراجیکٹ عمران خان کھڑا کرنے والوں کو انہیں بے نقاب کرنا پڑ گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا داعی ایک تھری سٹار پورن سٹار اور ٹرپل ایکس سابق پرائم منسٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی بھی دوسروں کے لئے حد سے زیادہ اونچے معیار سیٹ نہیں کرنے چاہئیں۔انسان جب دوسروں کے لئے دیانتداری اور سچائی کے بڑے معیارات بناتا ہے تو بالآخر وہ معیارات لوٹ کر اسکا اپنا محاسبہ بھی کرتے ہیں۔ خاص کر جب آپ سیاسی لیڈر ہوں تو آپ کو ہرگز مذہبی نظریات کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ‘امر بالمعروف’ اور ‘جہاد’ کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا تھا جو انکی سنگین غلطی تھی۔ ان کے سیاسی مخالفین اور ان کے سپورٹرز میں ان کی شخصیت کا ایک معیار بن گیا تھا۔ وہ ایک انتہا پسندانہ عمل تھا۔ اب انکی اپنی آڈیو لیکس سے ان کا جو کردار ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ بھی ایک انتہا پسند رویہ ہے۔ اگر وہ ایک سیاسی لیڈر رہتے تو آج انہیں ایسی تاریخی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان سے دوسری غلطی یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی میں ذاتیات کو شامل کر لیا اور سینئر فوجی افسروں کو نام لے کر لعن طعن کرنا اور لتاڑنا شروع کر دیا۔انہوں نے جنرل باجوہ پر مسلسل الزامات لگا کر اور انہیں غدار اور جانور قرار دے کر خفیہ والوں کو اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں پر مجبور کیا۔ وہ جس پائے کے سیاسی لیڈر ہونے کا دعوی ٰکرتے ہیں اس پر پورا اترنے کے لیے ان کو چاہیے تھا کہ وہ نظریات اور قومی ایشوز کی سیاست کرتے  نا کہ ذاتی حملوں پر اتر آتے۔ جب آپ اپنے مخالفین کو ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے تذلیل کا نشانہ بنائیں گے تو پھر جوابی وار بھی ہو گا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کو اپنے خلاف آڈیو لیکس اور مزید تذلیل کا سلسلہ روکنے کے لئے اپنی زبان درازی کو ترک کرنا ہوگا۔

Back to top button