عمران خان کے ہوتے بزدار کو کسی کارکردگی کی ضرورت نہیں

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے جب تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ وزیراعظم عمران خان ہیں انھیں کسی کارکردگی کی ضرورت نہیں ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا 31 مئی تک ٹرینوں کے موجودہ انتظامات جاری رہیں گے جبکہ کل لاہور میں ریلوے کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے علاوہ ٹرینوں سمیت تمام ٹرانسپورٹ بھی معطل کردی گئی تھی چنانچہ تقریباً 2 ماہ بعد آج سے ملک میں ٹرین آپریشن محدود طور پر بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 24 گھنٹئے قبل آن لائن ٹکٹس بند کرنا غلطی تھی، عوام کی اکثریت کو آن لائن ٹکٹ خریدنے کا طریقہ کار معلوم نہیں تاہم عید کے بعد آن لائن کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی ٹکٹس کی فروخت بحال کردی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلوے کا خسارہ بہت بڑا لیکن یہ حکومت کا ادارہ ہے جسے عوام کو سہولت پہنچانی ہے، عوام سے کاروبار نہیں کرنا ان کی خدمت کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا سخت نقصان ہورہا ہے لیکن اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا کیوں کہ حکومت کا کام کرنا حکومت بننا ہے دکاندار کی طرح نفع دیکھنا نہیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ کوئی صوبہ ٹرینیں کھولنے کے لیے تیار نہیں تھا ہم نے بڑی مشکل سے ٹرینیں بحال کروائی ہیں جس میں وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی شامل ہے جس کی بدولت آج ٹرینیں چل رہی ہے۔اے سی ٹرین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وائرس سے اے سی سے نہیں پھیلتا ورنہ بیروِنِ ملک سے 14، 14 گھنٹوں کا سفر طے کر کے آنے والی پروازوں میں اے سی بند ہوتا ہے کیا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹرینوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنانے کے ساتھ ماسکس دستانے اور سینیٹائزرز رکھے ہیں اور جو چاہے وہ ادائیگی کر کے اے سی میں سفر کرے ورنہ اکانومی میں بھی سفر کر سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے آن لائن ٹکٹس پر بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے لیکن آج پہلا دن ہے کل میٹنگ میں اس کا فیصلہ کریں گے۔حکومت کی کارکردگی اور تبدیلی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کارکردگی بہت اچھی ہے جہاں تبدیلی ہونی تھی وہاں وزارت اطلاعات میں ہوگئی ہے اور جب تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ عمران خان ہیں کارکردگی ہی کارکردگی ہے، کسی کارکردگی کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک مرتبہ پھر انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ 31 جولائی تک مزید کئی تحقیقات ہوں گی، شہباز شریف کو معلوم ہے کہ وہ واچ لسٹ میں ہیں اور کسی بھی وقت ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں آجائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وزارت توانائی کی کمیٹی نے آئی پی پیز کی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو مذاکرات کرے گی اور اس کی سربراہی بابر یعقوب کریں گے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ چینی والے، آئی پی پیز والے آٹا بحران والے سب عوام کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔
