عمران خان 14 سال جیل بھگتیں گے یا ملک سے بھاگ جائیں گے؟

سینئرصحافی اسد طور نےدعوی کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے وقت عمران خان جیل میں ہونگے کیونکہ دانستہ طور پر سائفر بیرون ملک کسی کو دینے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 14 سال کی سزا سنائی جائے گی جبکہ سائفر کی گمشدگی ثابت ہونے پر انہیں 2 سال کی سزا ہو گی۔ جبکہ دوسری طرف معاملے سے متعلقہ 22 ذمہ داران عمران خان کے خلاف گواہی دے چکے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کا سائفر کیس سے بچنا محال نظر آتا ہے۔
اپنے حالیہ وی-لاگ میں اسد علی طور نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کے خلاف چالان آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے سامنے جمع کرا دیا ہے۔ ایف آئی اے نے چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو قصوروار قرار دیا ہے اور استدعا کی ہے کہ ان پر آفیشل سیکرٹس ایکٹ لگتا ہے اور ان کی سزا بنتی ہے۔
اسد طور کے مطا بق دلچسپ بات یہ ہے کہ سائفر کیس سے اسد عمر کو الگ کر دیا ہے۔ چالان میں سے اسد عمر کو مجرمان کی لسٹ سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ اب اس کیس میں صرف دو ہی ملزمان ہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی۔ اس کیس میں مرکزی گواہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں اور انہوں نے دفعہ 161 اور 164 کا بیان بھی قلمبند کروا دیا ہے جو کہ چالان کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
اسد طور کے مطابق ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک بیان ایف آئی اے اور تفتیشی افسران کے سامنے دیا جاتا ہے اور اس کو قانون میں مضبوط تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں زبردستی یا دباؤ ڈال کر تو بیان نہیں لیا گیا۔ اگر ملزم عدالت میں جا کر یہ کہہ دے کہ مجھ سے زبردستی بیان لیا گیا ہے تو وہ بیان خارج ہو جاتا ہے۔ دوسرا بیان مجسٹریٹ کے سامنے تنہائی میں ریکارڈ کروایا جاتا ہے اور مجسٹریٹ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ زبردستی یا دباؤ میں تو بیان نہیں دے رہا۔ مجسٹریٹ اس کے بعد بیان ریکارڈ کرتا ہے۔
اسد طور کے بقول اعظم خان کے خلفیہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا۔ ریاستی راز کا غلط استعمال کیا۔ یعنی کہ عمران خان سائفر جو کہ ایک ریاستی راز ہے، اس کا مطالعہ کر سکتے تھے۔ اس پر ان کو بریف کیا جا سکتا تھا لیکن وہ اپنے پاس رکھ نہیں سکتے تھے۔ تاہم عمران خان نے سائفر کو اپنے پاس رکھ لیا اور بعد ازاں یہ کہہ دیا کہ گم ہو گیا ہے۔ متعدد ٹاک شوز میں بھی عمران خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سائفر گم ہو گیا ہے۔ اعظم خان نے بھی یہی کہا کہ سائفر عمران خان کو دیا تھا۔ جب میں نے بعد میں خان صاحب سے واپس مانگا تو انہوں نے کہا کہ یہ گم ہو گیا ہے۔ سائفر گمنے سے پہلے کی عمران خان اور اعظم خان کی آڈیو بھی سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تھی جس میں عمران خان نے کہا کہ میں سائفر کو پڑھوں گا، آپ نے منٹس آف میٹنگ بنانے ہیں اور پھر اس سائفر پر کھیلیں گے۔ یعنی سازش تو پوری نظر آتی ہے کہ عمران خان نے ناصرف اس سائفر کو بظاہر گمایا بلکہ اس کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔
اسد طور کے مطابق عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی پریڈ گراؤنڈ میں کی گئی تقریر کا ٹرانسکرپٹ بھی چالان کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ اس جلسے میں عمران خان نے کاغذ لہرا کر کہا تھا کہ یہ سائفر ہے اور مجھے دھمکی دی گئی ہے۔اس کے ساتھ 22 گواہوں کی لسٹ اور ان کے 161 کے بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد چالان کے ساتھ لگائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے گواہوں میں سیکرٹری خارجہ اسد مجید، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی اور سائفر وزارت خارجہ سے لے کر وزیراعظم تک پہنچنے تک پوری چین گواہان میں شامل ہے۔
اسد طور کے بقول سائفر جاری ہونے سے ڈی-کوڈ ہونے تک ان 22 اشخاص کے ہاتھوں سے ہو کر عمران خان تک پہنچا۔ انہوں نے ہی سائفر کو عمران خان اور وزیر اعظم آفس کے لئے پراسیس کیا۔ ان تمام افراد نے عمران خان کے خلاف گواہی دی ہے۔اسد طور کا مزید کہنا ہے کہ اگرعمران خان نے دانستہ طور پر سائفر بیرون ملک کسی کو دیا ہے یعنی ملک کی سیکرٹ دستاویز ملک کے خلاف استعمال ہونے کے لئے کسی کو دے دی، اگر ایف آئی اے یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی تو عمران خان کو 14 سال قید کی سزا ہو گی۔ عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ کر قانون کی خلاف ورزی کی۔ پھر انہوں نے سائفر کا سہارا لے کر جھوٹا بیانیہ تیار کیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے سائفر گما بھی دیا۔ اگر ایف آئی اے سائفر کی گمشدگی ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی تو عمران خان کو کم سے کم بھی 2 سال کی سزا ہو گی۔ چالان جمع ہو گیا ہے۔ چند سماعتیں ہوں گی، جرح ہو گی، فرد جرم عائد کی جائے گی۔ امکان ہے کہ اکتوبر کے آخر تک کیس کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ اور عمران خان کو سزا ہو جائے گی۔ اگر 2 سال کی سزا ہوئی تو یہ سزا اسلام آباد ہائیکورٹ سے باآسانی معطل بھی ہو سکتی ہے۔ سزا معطل ہونے تک دسمبر آ جائے گا۔ لیکن تب تک عمران خان کے خلاف دہشتگردی سمیت مزید کیس بنائے جائیں گے۔ 9 مئی کیس اور القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری ہو جائے گی۔
توشہ خانہ کیس میں نیب کی طرف سے گرفتاری ڈالی جائے گی۔ اگر کسی صورت چیف الیکشن کمشنر اور سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں دی گئی تاریخ 28 جنوری کو انتخابات ہوتے ہیں تو عمران خان یقینی طور پر جیل میں ہی ہوں گے۔ تب تک عمران خان کو سزائیں سنائی جائیں گی، معطل بھی کی جائیں گی۔ اگلے سال کے وسط تک عمران خان انہی چکروں میں پھنسے رہیں گے۔ تب تک نئی حکومت بھی بن چکی ہو گی۔ آخر میں یا انہیں چھوڑ دیا جائے گا یا پھر جلاوطن کر دیا جائے گا۔
