عمران نے پونے دو ارب روپے کی گھڑی 5 کروڑ میں کیوں بیچی؟

عمران خان کے توشہ خانہ سکینڈل کی نئی تفصیلات نے وفاقی کابینہ ڈویژن کے اس طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے ملنے والے قیمتی تحفوں کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کیا جاتا ہے۔ فواد چودھری نے عمران خان کا گھڑی سکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے عمران خان کو تحفہ دی جانے والی گھڑی کی مارکیٹ ویلیو وفاقی کابینہ ڈویژن نے 10 کروڑ روپے لگائی تھی جب کہ عمران نے اسے 5 کروڑ روپے میں فروخت کیا۔ دوسری جانب دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر فاروق ظہور نے یہ گھڑی فرح گوگی سے 28 کروڑ روپوں میں خریدنے کا دعوی کیا ہے جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو ایک ارب 70 کروڑ پاکستانی روپے لگائی گئی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو گھڑی فروخت کی اس کی قیمت کسی بھی صورت پانچ یا دس کروڑ روپے نہیں ہو سکتی کیونکہ سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے اتنا سستا تحفہ نہیں دیتے۔ عمر فاروق ظہور کے مطابق بھی انہوں نے فرح گوگی سے عمران خان کی جو گھڑی خریدی اس میں قیمتی ہیرے جڑے ہوئے ہیں۔ انکے مطابق گھڑی کے پورے سیٹ میں کچھ آئٹمز اور بھی موجود ہیں جن کی کل تعداد 2000 سے زائد ہے اور انکا وزن 42 قیراط بنتا تھا۔ عمر فاروق نے یہ گھڑی 28 کروڑ پاکستانی روپوں میں خریدی ہے۔

دوسری جانب کابینہ ڈویژن کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جب عمران خان نے اس گھڑی کی مارکیٹ ویلیو پتہ کروائی تھی تو اسکی قیمت 10 کروڑ رقپے لگائی گئی تھی۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان نے یہ گھڑی اسلام آباد کی ایک مقامی جیولر کو 5 کروڑ 10 لاکھ روپے میں بیچ دی تھی۔ جب جیو نیوز سے منسلک سینئر صحافی اعزاز اسلام آباد میں اس جیولر کی دکان پر پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ دو سال پہلے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر چکے ہیں۔ دوسری جانب ٹائم زون واچ لمیٹڈ دبئی نے اس گھڑی کی قیمت ایک ارب 70 کروڑ روپے سے زیادہ لگائی۔ دبئی کے بزنس مین عمر فاروق ظہور کا اصرار ہے کہ انہوں نے فرح خان سے یہ گھڑی 28 کروڑ روپوں میں خریدی تھی۔ دونوں فریق اپنے دعوے کے حق میں دستاویزی ثبوت رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ لیکن اس جیول کلاس تحفے میں دیئے گئے واچ باکس کی توشہ خانہ والی تفصیلات میں وہ سب آئٹمز موجود ہیں جن کا ذکر عمر فاروق نے کیا ہے۔

دوسری جانب عمران خان نے گھڑی کے مبینہ خریدار اور جیو نیوز کے خلاف لندن اور یو اے ای میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان تو کیا یے لیکن اس کا امکان کم نظر آتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تحفے میں ملی گھڑی اور اس کی فروخت سے متعلق الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ہینڈلرز کی حمایت سے جیو نیوز نے بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔ تاہم عمران اس شخص کا نام بتانے کو تیار نہیں جنہیں بقول ان کے گھڑی فروخت کی گئی تھی۔ اس معاملے میں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جس ڈیلر کو عمران خان نے گھڑی فروخت کی اس کا نام ’میں نہیں لینا چاہتا کیونکہ وہ ڈر کے مارے ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ جب ہماری حکومت گئی تو ایف آئی اے نے اس ڈیلر کو بھی اٹھا لیا تھا اس لئے میں اس کا نام لے کر اسے مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ملک سے فرار ہو چکا ہے تو پھر وہ کیسے مصیبت میں پھنس سکتا ہے؟

Back to top button