عمران کیخلاف کرپشن تحقیقات ، فرح شہزادی کو واپس لانے کا فیصلہ

حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف کرپشن تحقیقات کیلئے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح شہزادی عرف فرح گوگی کو دبئی سے پاکستان واپس لانے اورتحریک انصاف سینٹرل سیکریٹریٹ کے چار ملازمین کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کافیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست اور کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والی فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کو دبئی سے پاکستان واپس لا نے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرئع کا کہنا تھافرح گوگی پر الزام ہے کہ انہوں نے عمران نیازی کی فرنٹ مین کا کردار ادا کیا اور اس حوالے سے ان سے حقائق معلوم کرنے ہیں، فرح گوگی پر جو الزامات سامنے آئے ہیں ان کی تفتیش کے لئے ان موجودگی ضروری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرح گوگی کو دوبئی سے واپس لانے کی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی طرف سے تحریک انصاف سینٹرل سیکریٹریٹ کے چار ملازمین کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، ان ملازمین میں طاہر اقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق شامل ہیں، ان ملازمین کے نجی اکاؤنٹس میں 2008 سے لے کر 2022 تک جتنی رقوم آئی ہیں ان کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے، اور ان کے نجی اکاﺅنٹس میں آنے والی بھاری رقوم کا ریکارڈ اسٹیٹ بینک سے منگوایا جارہا ہے، جب کہ شواہد کی روشنی میں گرفتار یاں بھی عمل میں آئیں گی۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نیازی کی فارن فنڈنگ کے 2013 سے 2022 کے 9 سال کا ریکارڈ بھی منگوا لیا گیا ہے، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں صرف 5 سال تک کے عرصے کا ریکارڈ ہے، اور اسٹیٹ بینک الیکشن کمیشن کو مالی سال 2008-9 سے 2012-13 تک کی مدت کا ریکارڈ فراہم کرچکا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مدت کے بعد پی ٹی آئی کو اور بھی زیادہ اور بھاری غیرقانونی رقوم فراہم ہوئی ہیں، ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ عمران خان نے دھرنے کے دوران کس کس سے کتنے پیسے لئے، انڈیپنڈنٹ آڈیٹرز کے ذریعے ریکارڈ کی فارنزک جانچ پڑتال ہوگی، اور ایف آئی اے اور ایف بی آر اپنی اپنی سطح ریکارڈحاصل کرکے کارروائی کریں گے۔
اس کے علاوہ حکومت نے پی ٹی آئی اور عمران خان نیازی کے خفیہ انٹرنیشنل بینک اکائونٹس کے ریکارڈ کے لئے عالمی بینکس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دور میں ڈیٹا ایکسچینج ایگریمنٹ ہوا تھا، اس معاہدے کے تحت ایف بی آر کو قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ عالمی بینکس سے ریکارڈ حاصل کرسکتا ہے، اور اسی معاہدے کے تحت کارروائی عمل میں آئے گی، حکومت کی جانب سے امریکا، برطانیہ، کینیڈا، ناروے، فن لینڈ، ناروے، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا سمیت دیگر غیر ملکی بینک اکائونٹس کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان نیازی کے گوشواروں اور آمدن کی جانچ پڑتال کرانے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے، گوشواروں اور سامنے آنے والے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لے کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Back to top button