عمران کی جماعت ریت کی دیوار کیسے بنی؟

سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے والے تمام لوگ ایک ہی اسکرپٹ پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک پارٹی چھوڑنے والوں میں سے اکثر لوگ پارٹی اور حکومت میں سینیئر عہدوں پر بھی فائز تھے۔ لیکن صرف چند دنوں کی قید نے ہی ان کے عزم کو متزلزل کردیا۔اس طرح ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور پی ٹی آئی کی دوسری اور تیسری سطح کی قیادت پارٹی کو الوداع کہنے لگی۔ کچھ لوگوں نے تو سیکیورٹی ایجنسیوں اور مقدمات کے دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے تو کچھ نے اس عتاب کے نازل ہونے سے پہلے خود ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
زاہد حسین کے بقول ہم اس وقت اسی طاقت کی جانب سے ایک سیاسی جماعت کو ٹوٹتا دیکھ رہے ہیں جس طاقت نے کبھی اس جماعت کو سہارا دیا تھا۔ ان دونوں کے درمیان کشیدگی تو کچھ وقت سے جاری تھی لیکن 9 مئی کو پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے عسکری عمارت پر حملے کے بعد یہ کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد تو ریاست نے جس شدت کے ساتھ جواب دیا ویسی شدت ماضی قریب میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ نتیجے کے طور پر جماعت کو اس کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔
زاہد حسین کہتے ہیں طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مقابلے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے اس کا عمران خان نے انتہائی غلط اندازہ لگایا تھا۔ شاید ابھی ان کا کھیل تو ختم نہ ہو لیکن سابق وزیر اعظم کے لیے کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ دوبارہ حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔پی ٹی آئی کی ٹوٹ پھوٹ دراصل سیاسی انجینیئرنگ کا ایک نیا دور ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو طاقتور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ باقاعدگی سے کھیلتی آرہی ہے۔لیکن جس طرح ملک کی مضبوط ترین سیاسی قوت سمجھے جانی والی جماعت بکھری ہے وہ انداز حیران کن ہے۔ جماعت چھوڑ کے جانے والوں کے انداز سے تمام شکوک دور ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام لوگ ایک ہی بات کرتے ہیں، وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لوگوں کا ضمیر اس واقعے کے کچھ دن بعد جاگا۔ ان لوگوں میں ’حب الوطنی‘ کے جذبات جگانے کے لیے کچھ روز کی گرفتاری یا پھر ’نادیدہ قوتوں‘ کی جانب سے رات گئے ملاقاتوں کی ضرورت پیش آئی۔یہ لوگ اپنے لیے اب نئے مواقع تلاش کررہے ہیں لیکن یہ ان ہزاروں نوجوان مرد و خواتین کو بھول چکے ہیں جو انقلاب کے جذباتی نعروں کی رو میں بہہ گئے۔ان میں سے کئی جیلوں میں بند ہیں اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ بلاشبہ پارٹی کی قیادت میں اب بھی کچھ لوگ ہیں جو ڈٹے ہوئے ہیں۔ لیکن شاید اب فیصلہ ہوچکا ہے اور جس کام کا آغاز ہوا ہے اسے انجام تک پہنچایا جائے گا۔اس وقت ہم جو کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ دراصل سیاسی انجینیئرنگ کے پرانے کھیل کا نشر مکرر ہے۔ اس کھیل کا ہدایت کار تو ایک ہی ہے بس اداکار تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کھیل کے پچھلے ایکٹ کا مرکزی کردار نئے ایکٹ کا ولن ہے اور ماضی کے ولن اب مرکزی کردار بن چکے ہیں۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان براہ راست فوجی اقتدار کے کئی ادوار سے گزرچکا ہے، درمیان میں ایسی جمہوری حکومتیں بھی آئیں جو بڑے بھیّا کے ماتحت کام کرتی تھیں۔ ملک میں ہونے والے سول ملٹری تصادم کا نتیجے اکثر حکومت کی تبدیلی کی صورت میں نکلا۔ میوزیکل چیئر کا یہ کھیل جاری رہا جس کے نتیجے میں جمہوری ادارے مضبوط نہ ہوسکے۔ہائبرڈ طرز حکومت، جس سے پی ٹی آئی بھی مستفید ہوئی ہے، اس نے جمہوری عمل کو بہت حد تک کمزور کیا ہے جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ عمران خان کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنانے سے سیاسی ماحول خراب ہوا، یہاں تک کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی محاذ آرائی کی ان کی پالیسیوں نے جمہوری عمل میں رکاوٹیں ڈالیں۔عمران خان کی انا کسی سیاسی مذاکرات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پارلیمنٹ میں رہنے کے بجائے انہوں نے تصادم کا راستہ اختیار کیا اور پی ڈی ایم حکومت کو عوامی قوت کی ذریعے گرانے کی کوشش کی۔ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ ان کے زہر آلود بیانیے کا نتیجہ تھا۔
زاہد حسین کے بقول عمران خان کی جماعت اب ٹوٹتی جارہی ہے اور ان کے سر پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے، ایسے میں عمران خان کو دستیاب مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔ خود ان کی سیاسی بقا کا دارو مدار بھی جمہوری عمل کے تسلسل میں ہے۔
