عمران کے ذریعے خانہ جنگی کون کروانا چاہتا ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف غلیظ مہم چلانے والے زلمے خلیل زاد اور دیگر امریکیوں کی عمران خان کے لئے بے چینی سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا اصل مقصد انسانی ہمدردی یا جمہوری حقوق نہیں بلکہ پاکستان میں خانہ جنگی کرانا اور ہمیں بلیک میل کرنا ہے، اپنے کالم میں سلیم صافی لکھتے ھیں کہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں دربدر ہونے والے افغان جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ افغانی النسل زلمے خلیل زاد نے کیا۔ روس، چین، ایران اور پاکستان کی کوشش تھی کہ دوحہ معاہدے سے قبل بین الافغان مفاہمت ہو لیکن یہ  کئے بغیر ہی زلمے خلیل زاد نے ان افغانوں کو طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جو امریکہ پر تکیہ کرتے ہوئے کئی سال تک ان سے لڑتے رہے۔

لوگوں کا اس طرف دھیان نہیں جاتا کہ جب امریکی القاعدہ اور طالبان کو اذیتیں دینے کیلئے 2002 میں گوانتانا موبے اور بگرام کے عقوبت خانے بنا رہے تھے تو زلمے خلیل زاد امریکی سیکرٹری دفاع اور پھر نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے مشیر تھے۔ان کی افغانیت اس قدر ختم ہوگئی  کہ جب حامد کرزئی طالبان کے خلاف امریکی افواج کی رات کے وقت گھروں پر چھاپوں کی مزاحمت کررہے تھے تو خلیل زاد ان کے وکیل تھے اور ان کےانسانی رحم کے جذبات اس قدر ختم ہوگئے تھے کہ بے چین ہونے کی بجائے وہ گوانتاموبے، ابوغریب اور بگرام کے عقوبت خانوں کی وکالت کر رہے تھے لیکن آج انہیں عمران خان کے ساتھ ہونے والی ”زیادتیوں“ نے بے چین کردیا ہے اور وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صدا بلند کرکے پاکستان کے خلاف غلیظ مہم چلارہے ہیں۔ حالانکہ ان کے ہاں اگر رتی بھر بھی افغانی غیرت موجود ہوتی تو پہلے تووہ ان افغانوں کیلئے آواز اٹھاتے جو امریکی وعدے کے مطابق افغانستان سے نکل کر پاکستان، یواے ای اور دیگر ممالک کے کیمپوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ زلمے  خلیل زاد میں اگر کوئی انسانیت ہے تو پاکستان کے اندرونی معاملات پر بات کرنے سے قبل امریکی حکومت سے ان افغانوں کا مسئلہ حل کروا ئیں جو ان کے وعدے کے مطابق افغانستان سے نکل کر مختلف ملکوں میں ذلیل ہورہے ہیں۔اس ظلم پر خاموشی اور عمران خان کیلئے ان کی اور دیگر امریکیوں کی بے چینی سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا اصل مقصد انسانی ہمدردی یا جمہوری حقوق نہیں بلکہ پاکستان میں خانہ جنگی کرانا اور اسے بلیک میل کرکے چین سے دور کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس چکر میں ان کے عزیز محسن عمران خان بھی ایکسپوز ہورہے ہیں اور عمران خان کو یاد رکھنا چاہئے کہ خلیل زاد ، شیرمن، جیرڈ کرشنر اور دیگر امریکی مقصد پورا ہونے کے بعد انہیں اسی طرح بے آسرا چھوڑیں گے جس طرح انہوں نے اشرف غنی کو چھوڑ دیا تھا۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ زلمے خلیل زاد نسلاََ پشتون افغان ہیں ۔ امریکہ تعلیم کیلئے گئے تھے اور پھر وہاں کی شہریت لے لی لیکن ایک دن کیلئے بھی افغانستان سے لاتعلق نہیں رہے اور چونکہ افغانستان اور عالم اسلام میں دلچسپی لے رہے تھے ،اس لئے پاکستان کی بھی خبر لیتے رہے لیکن جو نفرت ان کے ہاں میں نے پاکستان کے بارے میں دیکھی ہے ، وہ نہ کسی اور امریکی کے ہاں دیکھی اور نہ کسی اور افغان کے ہاں۔ اس کی جھلک ان کی لکھی ہوئی کتاب ’’دی انوائے ‘‘میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے لیکن اپنے افغانوں کے ساتھ اور عراقی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ اس شخص نے کیا وہ ایک شقی القلب امریکی بھی نہیں کرسکتا۔

سلیم صافی کے مطابق  زلمے خلیل زاد کے کردار کو دیکھنے کے بعد میری یہ رائے پختہ ہوگئی ہے کہ کسی غیر ملک کی شہریت لینے والے کو پاکستان میں سیاست ، صحافت یا سرکاری نوکری کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ہندوستان کی طرح ہمارے ہاں بھی دہری شہریت کا قانون ختم ہونا چاہئے اور اگر کسی کو پاکستان واقعی عزیزہے تو وہ اس کی خاطر اتنی تو قربانی دے کہ کسی اور ملک کی وفاداری کا حلف نہ اٹھائے۔

Back to top button