کیا جسٹس مظاہر نقوی کی چھٹی کا فیصلہ ہو چکاہے؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پے درپے شکایات کے اندراج کے بعد اب سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس نقوی کے خلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی انجام کی جاب بڑھتی نظر آتی ہے،  کارروائی کو آگے بڑھانے کیلئے سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کے طلب کرنے پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کے شکایت کنندہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے تفصیلی بیان حلفی جمع کرا دیا ہے۔

میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے بیان حلفی کے ساتھ ریفرنس کے دستاویزی ثبوت بذریعہ متفرق درخواست دوبارہ جمع کرادیے گئے ہیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق تمام دستاویزی ثبوت ریفرنس کے ساتھ منسلک تھے لیکن اب دوبارہ جمع کروائے جا رہے ہیں۔درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی، ان کے بیٹوں کے نام، مشکوک انداز میں خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات کے علاوہ جسٹس نقوی کی بیٹی نقش فاطمہ کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

دستاویزات کے مطابق جسٹس نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2کنال4مرلے کا پلاٹ4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا۔ یہ پلاٹ7کروڑ20لاکھ کا ڈکلیئر کیا۔ یہ پلاٹ2022 میں13کروڑ کا اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر کے 4کروڑ96لاکھ کا ڈکلیئر کیا۔جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4کنال کا پلاٹ10 کروڑ 70 لاکھ میں خریدا۔فرنٹ مین صفدر نے جج کے بیٹوں مصطفی نقوی، مرتضی نقوی کو ایک ایک کنال کے 2 پلاٹ کیپٹل اسمارٹ سٹی میں دلوائے۔ ایک بیٹے مصطفی نقوی کوکیپٹل اسمارٹ سٹی میں 1کنال کا پلاٹ صرف5 لاکھ 40 ہزار میں دلوایا گیا۔ مصطفی نقوی کو کیپٹل اسمارٹ سٹی انتظامیہ نے ساڑھے 16 مرلے پلاٹ میں 46لاکھ60ہزار رعایت دی۔ جج کےدونوں بیٹے مصطفی نقوی اور مرتضی نقوی لاہور اسمارٹ سٹی میں دسمبر 2021 میں چار چار مرلے کے 2 کمرشل پلاٹوں کے مالک بنے۔

دستاویزات کے مطابق جج کے دونوں بیٹوں نےکمرشل پلاٹوں کی صرف 9 لاکھ روپے فی پلاٹ رقم کاغذوں میں جمع کروائی ہے۔ دونوں کمرشل پلاٹس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 3 کروڑ ہے۔ زاہد رفیق اور صفدر نامی شخص نے جج اور ان کی فیملی کے لیے سہولت کاری اور فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔ زاہد رفیق نامی پراپرٹی ڈیلر نے جج کی بیٹی کے برطانوی اکاؤنٹ میں10ہزار پاؤنڈ بھجوائے۔جج کی بیٹی نقش فاطمہ نقوی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں 5 ہزار پاؤنڈ کی رسید پر31جنوری2023 کی تاریخ درج ہے۔ جج کی بیٹی کے برطانوی بینک اکاؤنٹ میں5 ہزار پاؤنڈ ابوظبی سے بھجوائے گئے۔

شکایت کنندہ میاں داؤد کو جسٹس نقوی کے بیٹوں کی طرف سے بھجوایا گیا لیگل نوٹس بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جس میں جج کے بیٹوں نے چند برسوں میں1000کے قریب مقدمات کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ شکایت کنندہ میاں داؤد کی طرف سے لیگل نوٹس کے جواب کی کاپی بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کے خلاف جہاں مبینہ مس کنڈکٹ پر 5 شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی جا چکی ہیں۔ وہیں دوسری طرف سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دائر کردہ 5 شکایات پر کارروائی کرنے اور سامنے آنے والی آڈیوز اور ویڈیوز بارے تحقیقات کئے بغیر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال آڈیوز اور ویڈیوز کو غیر اہم قرار دے کر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ فروری میں سوشل میڈیا پر کئی آڈیو کلپس منظر عام پر آئے تھے، ایک کلپ میں چوہدری پرویز الہٰی کو مبینہ طور پر اس جج سے بات کرتے ہوئے سنا گیا جس کے سامنے وہ کرپشن کا مقدمہ مقرر کرانا چاہتے تھے۔جس کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف مختلف درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں 4 شکایات جمع کرائی جاچکی ہیں جس میں استدعا کی گئی تھی کہ جسٹس مظاہر ’مس-کنڈکٹ‘ کے مرتکب ہوئے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی کرے۔  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چار درخواستیں پاکستان بار کونسل، مسلم لیگ ن لائرز ونگ اور میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہیں۔

Back to top button