عوام پر پٹرول بم گرادیا گیا، پٹرول 2.70 روپے فی لیٹر مہنگا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے پٹرول کی قیمت میں 2.70 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔ اوگرا کی تجویز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں معمولی اضافہ کی منظوری دی اور وزیراعظم کی منظوری سے ہائی سپیڈ پٹرول کی قیمت میں 2.70 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.88 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ .. رپورٹ کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 354 بیس روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے اضافہ ہوا۔ نئے سال کے پہلے مہینے 15 جنوری کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3.20 روپے فی لیٹر اضافی اضافہ کیا۔ اس پروڈکٹ کی تشہیر مہنگی ہونے کی وجہ سے کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اوگرا کے خلاف تھے اور وزارت خزانہ نے پٹرول کی قیمتوں میں 13 روپے اضافے اور قیمت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پیسہ ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 2.95 روپے اور مٹی کا تیل 2.95 روپے بڑھ جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ دسمبر 2020 کے آخری دن حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3.95 روپے اضافے پر اتفاق کیا۔ لوگوں کی مدد کے لیے وزیراعظم عمران خان نے تیل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات میں کم سے کم اضافے کی منظوری دی ہے۔ 8.37 روپے فی لیٹر ، حکومت کی ترجیح کو ذہن میں رکھیں کہ آبادی کو مزید مدد فراہم کی جائے۔
