غزہ میں جاری مظالم کی صرف مذمت کافی نہیں :  وزیر اعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہاہے کہ غزہ میں جاری مظالم کی صرف مذمت کافی نہیں بلکہ اس بربریت کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور قتل عام سمیت دنیا کے نظام کو درپیش سنگین چیلنجز کو دیکھتےہوئےہمیں نئے ورلڈ آرڈر گونج سنائی دے رہی ہے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سیشن سےخطاب کا آغاز قرآن کی آیت سے کیا اور فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت و مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔

شہباز شریف نےکہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم و بربریت کی مذمت کرتے ہیں، غزہ کے المناک سانحے نےانسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن المیہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس پر خاموش یا پھر صرف مذمت کی حد تک محدود ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم کے دل فلسطینیوں کےساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم فلسطین کی سفارتی و امدادی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ شہباز شریف نےکہا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کا مستقل رکن تسلیم کیا جائے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی نے مشرق وسطیٰ کو مزید خطرات سے دوچار کردیا اور اسرائیل کو اپنی جارحیت بڑھانے کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نےکہا کہ مسئلہ کشمیر بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، کشمیریوں کےحق خود ارادیت سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں، یہ طےہوا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت ملےگا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، کشمیریوں نے برہان وانی کی جدوجہد کو اپنایا ہوا ہے۔

شہباز شریف نےکہا کہ کشمیری حق خود ارادیت کےلیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان اُس کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نےکہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔بھارت کو تعلقات معمول پر لانے کیلیے کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرنا ہوگا اور کشمیریوں کو اُن کا حق دینا ہوگا۔

وزیر اعظم کاکہنا تھاکہ میں ایک بارپھر واضح کرنا چاہتاہوں کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

وزیراعظم اورآئی ایم ایف سربراہ کاتعاون مضبوط کرنےپراتفاق

Back to top button