غیر ملکی فنڈنگ، تحریک انصاف کے مزید چار خفیہ اکاؤنٹس کا انکشاف

پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے لیے سکروٹنی کمیٹی میں تحریک انصاف کے مزید چار خفیہ اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے۔دو اکاؤنٹس کی تصدیق ہو گئی ہے جب کہ دو اکاؤنٹس سے متعلق چھان بین جاری ہے۔درخواست گزار اکبر ایس بابر نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے مطلوبہ تمام بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔
جانچ پڑتال کا عمل منگل اور بدھ کو بھی جاری رہے گا جس کے بعد معاملے کو سکروٹنی کمیٹی میں زیر بحث لایا جائے گا جب کہ کمیٹی نے مئی کے آخر تک اپنی رپورٹ کمیشن کو پیش کرنی ہے۔اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ سکروٹنی کمیٹی پی ٹی ائی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال مقررہ وقت میں مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے، ایک وقت ایسا آئے گا جب اپنے مینڈیٹ کی تکمیل سے انکار پر کمیٹی کا احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے ہمیں 40 گھنٹوں میں دستاویزات کی پڑتال کا کہا گیا ہے جو کمیٹی تین سالوں میں نہیں کر سکی۔قبل ازیں پی ٹی آئی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کی سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں لیپ ٹاپ استعمال کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اکبر ایس بابر نے ٹیکنیکل افراد کی جانب سے اجلاس کے دوران لیپ ٹاپ استعمال کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو 14 اپریل کے فیصلے میں صرف ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ لینے کی اجازت دی تھی۔ پیر کو الیکشن کمیشن نے کہاکہ اکبر ایس بابر کی ریکارڈ جائزہ کے دوران لیپ ٹاپ استعمال کی درخواست مسترد کرتے ہیں ، الیکشن کمیشن کے 14 اپریل کے فیصلے پر سکروٹنی کمیٹی اور فریقین عملد درآمد کریں ،اسکروٹنی کمیٹی الیکشن کمیشن کے ٹی آر او کے مطابق مناسب حکم جاری کر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی اپنے اختیارات کا معقول انداز سے استعمال کر سکتی ہے ، جماعتیں غیر ضروری معاملات اور اعتراضات نہ اٹھائیں۔
