فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں

معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچتا ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نااہل ہو سکتے ہیں۔
نجم سیٹھی کا فارن فنڈنگ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ قانون کے مطابق فارن فنڈ ڈکلئیر کرنے پڑتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں خرچ ہوئے ہیں. ارباب ارشاد تو ملین ڈالرز کی بات کر رہے ہیں جن کا حساب نہیں ہے،یہ غائب ہو گئے پتہ ہی کچھ نہیں کہ کہاں گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے کئی پابندیاں بھی ہیں کہ فنڈ فلاں جگہ سے آ سکتے ہیں اور فلاں فلاں جگہ سے نہیں آ سکتے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کے معاملے میں کئی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ اگر فارن فنڈنگ کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے تو عمران خان نااہل ہوجائیں گے۔ کیونکہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف آتا ہے تو قانون کے مطابق پارٹی کا سربراہ نااہل ہو جائے گا لہذا عمران خان نااہل ہو سکتے ہیں جیسے نواز شریف اقامہ کی بنیاد پر نااہل ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یوں سمجھیں کہ دو لیڈر فارغ ہونے جا رہے ہیں،ایک تو ہو چکا ہے دوسرا ہوجائے گا۔ نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ آج نہیں تو کل فارن فنڈنگ کیس عمران خان کے گلے پڑے گا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں پی ٹی آئی قیادت کیخلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ.
خیال رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف کے منحرف رکن اورپی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے درخواستگزار اکبر ایس بابر کو کیس سے پیچھے ہٹنے کیلئے دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا تھا، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے درخواستگزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی تھی کہ ان کو کیس واپس لینے کیلئے دھمکی آمیز کالزموصول ہوئی ہیں،اورانھیں ہراساں کیاجارہا ہے۔ میں نے جس جماعت کے خلاف کیس کیا ہے وہی لوگ مجھے ہراساں کررہے ہیں۔اکبرایس بابر نے مزید کہا کہ میں نے تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس نومبر 2014ء میں کیا ہے،اس کے اگلے دن ہی مجھ پر بڑے سنگین الزامات لگائے گئے، مجھ پر کیس بنایا گیا۔ جبکہ میں تحریک انصاف کا بانی ممبر ہوں، ہماری عمران خان کے ساتھ بڑی قربت تھی۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ ہے، میں نے تین سال انتظار کیا اور میرا مقصد یہ تھا کہ پارٹی کو ایک ادارہ بنایا جائے۔
