فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی نمبر ون پوزیشن پر آگئے

پاکستانی فاسٹ بائولر شاہین آفریدی تیز ترین 100 وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد عالمی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر آگئے ہیں، فاسٹ بائولر اب تک میگا ایونٹ میں 16 وکٹیں سمیٹ چکے ہیں، ان کے بعد جنوبی افریقہ کے مارکو جینسن کا دوسرا، آسٹریلیا کے ایڈم زامپا کا تیسرا نمبر ہے۔بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں تین وکٹیں لینے والے شاہین نے آسٹریلیا کے جوش ہیزل وُڈ کو عمدہ باؤلنگ سے عالمی نمبر ایک کے اعزاز سے محروم کر دیا اور 2018 میں ڈیبیو کے بعد پہلا موقع ہے کہ وہ عالمی نمبر ایک باؤلر بنے ہیں، اس طرح اب عالمی نمبر ایک بلے باز کے بعد ورلڈ نمبر ون باؤلر کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔شاہین شاہ آفریدی نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں صرف 23 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر پاکستان کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا اور اس طرح گرین شرٹس کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو بھی برقرار رکھا، میچ میں انہوں نے بنگلہ دیشی اوپنر تنزید احمد کو آؤٹ کر کے ون ڈے کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں مکمل کر لی تھیں اور سب سے کم میچوں میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے فاسٹ باؤلر بن گئے، شاہین نے کہا کہ مجھے 10 وکٹیں مکمل کرنے کی خوشی ہے لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تمام وکٹیں پاکستان کی فتح کے کام آئیں اور میرا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے کہ کوئی ایسا کام کروں جو ٹیم کی جیت میں مدد کرتا رہے۔اس حوالے سے شاہین نے کہا کہ میں نے اس سال انڈین پریمیئر لیگ(آئی پی ایل) کے چند میچز دیکھے تھے اور اس میں گیند زیادہ سوئنگ نہیں ہو رہی تھی تو مجھے سوئنگ نہ ملنے پر زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ایسا صرف میرے ساتھ نہیں تھا، دیگر بائیں ہاتھ کے باؤلرز مچل اسٹارک اور ٹرینٹ بولٹ کو بھی زیادہ سوئنگ نہیں ملی۔ابتدائی میچوں میں محمد وسیم جونیئر کو نہ کھلانے پر شاہین نے کہا کہ وسیم کے لیے بینچ پر بیٹھنا ہرگز آسان نہ تھا اور پھر جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے دونوں میچوں میں شان دار باؤلنگ کی، بنگلہ دیش کے خلاف فتح کے بعد پاکستان کے ایونٹ کے سات میچوں میں 6 پوائنٹس ہو گئے ہیں اور اس نے اپنی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو زندہ رکھا ہے اگر قومی ٹیم اپنے اگلے میچز جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو نیوزی لینڈ کی اگلے دونوں میچوں میں ناکامی کی صورت میں گرین شرٹس سیمی فائنل میں جگہ بنا لیں گے۔

Back to top button