مارخور کے شکار کیلئے لائسنس کیسے حاصل کیا جاتا ہے؟

پاکستان کے قومی جانور ’’مارخور‘‘ کے شکار کیلئے لائسنس حاصل کرنا کافی مہنگا ثابت ہوتا ہے، کروڑوں روپے کی بولی سے صرف ایک مارخور کے شکار کا لائسنس ملتا ہے، رواں برس بھی محکمہ وائلڈ لائف نے جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے پرمٹ (لائسنس) کی نیلامی کی، آؤٹ فٹر کمپنی نے صرف ایک مارخور کے شکار کیلئے ایک لاکھ 86 ہزار ڈالر (5 کروڑ 17 لاکھ روپے) کی بولی دے کر لائسنس حاصل کیا۔محکمہ وائلڈ لائف نے رواں سال کے لیے گلگت بلتستان میں ’ٹرافی ہنٹنگ پروگرام‘ کے تحت مارخور کے شکار کے لیے 4 مختلف مقامات کے لائسنس نیلام کیے، رواں سال گلگت بلتستان کے علاقے کارگاہ، نور پورہ، بسین اور کنزرویشن ایریا میں ایک ایک مارخور کا شکار کیا جائے گا، ایک مار خور کے شکار کے لیے ریکارڈ ایک لاکھ 86 ہزار ڈالر کی بولی دی گئی۔مارخور کے شکار سے گزشتہ 2 دہائیوں سے منسلک رہنے والے ڈاکٹر وسیم احمد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ پاکستان میں مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کا سلسلہ 1970 سے شروع ہوا تھا جبکہ 1995 میں حکومت پاکستان نے اسے حکومتی سطح پر تسلیم کیا تھا، ہر سال کم و پیش 12 مارخور جانوروں کا شکار کرایا جاتا ہے اور ہر مارخور کے شکار کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی بولی پر لائسنس دیا جاتا ہے، مارخور کی عمر 13 سے 14 سال ہوتی ہے، 10 سال کے بعد سے مارخور بوڑھا ہو جاتا ہے، اور وہ کمزوری کے باعث اونچے پہاڑوں سے گر کر یا جوان مارخور سے لڑتے ہوئے گر کر مر جاتا ہے، ایسے مارخوروں کی نشاندہی محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ کرتا ہے۔ڈاکٹر وسیم احمد خان نے بتایا کہ غیر ملکیوں کو شکار کے لیے زیادہ بھاری رقم دینا ہوتی ہے تاہم مقامی شکاریوں سے ایک لاکھ روپے لیے جاتے ہیں، جبکہ جن علاقوں میں مارخور پایا جاتا ہے وہاں کے مقامی افراد غیر قانونی شکار نہیں کرنے دیتے اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔مارک پیٹرسن مارخور کے شکاری ہیں جو کہ 2016 میں پاکستان آ کر مارخور کا شکار کر چکے ہیں، ان کے مطابق پاکستان پہنچ کر شکار مکمل کر کے واپس جانے میں 40 دن کا وقت گزر گیا تھا، مارخور کے شکار کے لیے مقامی افراد کی 8 سے 10 لوگوں کی ٹیم ہوتی ہے جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ بھی ہمراہ ہوتا ہے جبکہ دوسری ٹیم اس پہاڑ کے نیچے ہوتی ہے جس پر مارخور نظر آ رہا ہوتا ہے، مارخور کا شکار کرنے سے قبل پہاڑ کی چوٹی پر جایا جاتا ہے اور اس جگہ کا تعین کیا جاتا ہے جہاں سے شکار آسان ہو، اور ایسی جگہ ہو کہ جہاں سے مارخور کو دیکھا جا سکے۔مارخور کے شکار کے لیے پہاڑی کے ٹاپ پر جایا جاتا ہے اور وہاں سے سامنے والے پہاڑ پر اس مارخور کی نشاندہی کی جاتی ہے جس کا شکار کرنا ہوتا ہے، محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ اس جانور کی تصدیق کرتا ہے جس کے بعد شکاری کو ایک فائر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مارخور کو فائر لگ جائے تو وہ تڑپتا ہے اور پہاڑ سے گر جاتا ہے، دوسری ٹیم گرے ہوئے مارخور کو پکڑتی ہے، پھر ایک مقام پر دونوں ٹیمیں اور شکاری ملتے ہیں جس کے بعد تصاویر بنائی جاتی ہیں، شکار کامیاب ہو جائے تو ایک طرح کا جشن کا سماں ہوتا ہے، شکاری اور ٹیم کو مقامی افراد ہار بھی پہناتے ہیں اور جشن مناتے ہیں، مقامی افراد غیر ملکی شکاری کو اپنے درمیان دیکھ کر انتہائی خوش ہوتے ہیں۔

Back to top button