فرانسیسی صدر کی اہلیہ پر مرد ہونے کا الزام لگ گیا


فرانس کے 44 سالہ صدر ایمانوئیل میکرون کی 68 سالہ اہلیہ بریگیٹ پر مرد ہونے کا الزام عائد ہونے کے بعد ایک ملک گیر بحث کا آغاز ہوچکا ہے جس کا کوئی اختتام ہوتا نظر نہیں آتا۔ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ فرانس کی خاتون اول پیدائشی طور پر ایک مرد تھیں جنہوں نے بعد میں اپنی جنس تبدیل کروالی تھی۔ لیکن خاتون اول کے مرد ہونے بارے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آنے کے باوجود بحث جاری ہے۔
یاد رہے یہ کہ صدر ایمانوئیل میکرون کی اہلیہ کی عمر 68 سال ہے اور وہ اپنے شوہر سے 24 سال بڑی ہیں۔ دراصل صدر ایمانوئیل اپنی اہلیہ بریگیٹ کی نوجوان بیٹی کے ہم جماعت تھے لیکن انہوں نے بیٹی کی بجائے ماں کو دل دے دیا اور شادی رچا لی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ فرانس کی خاتون اول ایک مرد تھیں جن کا اصل نام جین مشیل ٹروگنیکس تھا۔
یہ دعویٰ سب سے پہلے ایک فرنچ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بریگیٹ میکرون کے بارے میں تین سالہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ پیدائشی طور پر مرد تھیں۔ اس کے بعد معروف فرانسیسی اخبار لی فگارو نے رپورٹ کیا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی اہلیہ نے ایسی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی ہائی پروفائل سیاسی خواتین اپنی جنس سے متعلق ایسی افواہوں کا شکار ہوئی ہوں، اس سے پہلے سابق امریکی خاتون اول مشعل اوباما کی جنس سے متعلق بھی ایسےغیر مصدقہ دعوے کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کا پیدائشی نام مائیکل لاوون رابنسن تھا جو بارک ابامہ کی جیون ساتھی بننے سے پہلے مرد تھیں۔ اس کےعلاوہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی مبینہ طور پر اپنی جنس کے حوالے سے سازشی نظریات کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی دعوے کی کبھی تصدیق نہیں ہو پائی۔

Back to top button