یورپ کیلئے PIA پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان

یورپ اور برطانیہ کے لیے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پروازوں پر عائد پابندی ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی سیفٹی ایجنسی کی برطانیہ اور یورپ کیلئے پروازوں پر عائد پابندی نے پی آئی اے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رکھا تھا۔ اس پابندی کے بعد سے پاکستانی مسافروں کی بڑی تعداد کو یورپی ممالک کیلئے ان ڈائریکٹ پروازوں کی تکلیف برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔ کام معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے کی جانب سے عالمی سیفٹی ایجنسی کے 10 میں 9 تحفظات دور کیے جانے کے بعد اس پروجیکٹ عائد پابندیاں جلد ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
عالمی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی جانب سے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا آڈٹ ہونے کے بعد توقع ہے کہ ’آئندہ برس مارچ میں قومی ائیرلائن کی یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازیں بحال ہو جائیں گی۔ سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ایوی ایشن میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن نے سیفٹی سٹینڈرڈ سے متعلق 10 میں سے 9 سیفٹی تحفظات دور کر دیئے جسکی حتمی رپورٹ آئندہ سال مارچ میں جاری کر دی جائے گی۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس اسکے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈی جی سول ایوی ایشن خاقان مرتضٰی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کا آڈٹ تاریخ کا سخت ترین آڈٹ تھا جس میں اکاؤ نامی تنظیم کے تمام شعبوں کے سربراہ آڈٹ کے لیے پاکستان آئے، ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ سول ایوی ایشن نے اکاؤ کی جانب سے سیفٹی سے متعلق اٹھائے گئے 9 تحفظات کو دور کر دیا اور مجموعی طور پر 72 فیصد نمبر حاصل کر لیے۔ خاقان مرتضٰی کے مطابق جنوری کے دوسرے ہفتے میں اکاؤ کی جانب سے سیفٹی بلٹن جاری کیا جائے گا جبکہ مارچ تک حتمی رپورٹ جاری کر دی جائے گی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی یورپین سیفٹی ایجنسی کی جانب سے عائد کی گئی تھی جو اکاؤ کی آڈٹ سے مشروط تھی، اُمید ہے اکاؤ کی آڈٹ رپورٹ آنے کے بعد پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی ختم ہو جائے گی۔ ڈی جی سول ایوی ایشن خاقان مرتضٰی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ جعلی لائسنس حاصل کرنے والے پائکٹ حضرات کے خلاف کریمنل اور محکمانہ کاروائی کی گئی ہے، ایف آئی اے نے 5 ایف آئی آر درج کیں اور جعلی لائسنس بیچنے والے 60 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پائلٹس کے امتحانات کو آوٹ سورس کر دیا گیا ہے، پہلی دفعہ پیپر پر 75 فیصد، دوسری مرتبہ 25 فیصد جبکہ تیسری مرتبہ پیپر پر مکمل فیس پائلٹ کو ادا کرنی ہوگی، جبکہ دو سال تک پی آئی اے کا اپنا امتحانی سسٹم مرتب کر لیا جائے گا۔ پائلٹس کے منسوخ کیے جانے والے لائسنسوں کے بارے میں ڈی جی سول ایوی ایشن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ منسوخ لائسنس والے پائلٹس کو ایک ماہ کے اندر نظرثانی درخواست دینے کا کہا گیا ہے۔
