فروغ نسیم قرآنی آیات کی غلط تشریح پر تنقید کی زد میں

آزاد عدلیہ کی علامت قرار دئیے جانے والے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے چکر میں قرآن مجید کی آیت کی غلط تشریح کرنے پر سابق وزیر قانون اورحکومتی وکیل فروغ نسیم شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، ماہرین قانون اور ماہرین علم و ادب کی جانب سے فروغ نسیم کو سپریم کورٹ میں غیر اخلاقی، عورت بیزار اور صنفی امتیاز پر مبنی الفاظ استعمال کرنے پر مذمت کا سامنا ہے اور ان سے اپنے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ناقدین کے مطابق فروغ نسیم نے خواتین کی قانونی حیثیت سے متعلق قرآنی آیات کی غلط تشریح کرکے نہ صرف سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا بھی غلط استعمال کیا۔ سول سوسائٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق: ‘جب عدالت عظمیٰ میں فروغ نسیم سے استفسار کیا گیا کہ وہ کس قانون کے تحت ٹیکس دہندہ ہونے کے باوجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے نام پر موجود اثاثوں کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ذمہ داری قرار دے رہے ہیں تو ان کی جانب سے کسی قانونی دلیل کی بجائے قرآن کی آیات کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستانی قوانین کے تحت کوئی خاتون آزاد قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی قانونی شواہد پیش نہیں کیے اور نہ ہی اپنا بیان واپس لیا بلکہ اپنے بے تکے موقف کو قرآن مجید کی آیات کی غلط تشریح کے ذریعہ سچ ثابت کرنے کی کوشش کی جو قابل افسوس ہے۔ سول سوسائٹی کی جانب سے فروغ نسیم کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘قرآنی آیات کی من مانی تشریح، سیاق و سباق کے بغیر اور غلط ترجمے کے ساتھ ایسی دلیل کے طور پر استعمال’ قرار دیا گیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
تحریک نسواں، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، وارث میر فاونڈیشن، حنا جیلانی، شیما کرمانی، طاہرہ عبداللہ اور بےنظیر جتوئی سمیت مختلف سول سوسائٹی کی تنظیموں اور کارکنوں کی حمایت سے جاری کردہ بیان کے مطابق: ‘فروغ نسیم کی جانب سے جس قرآنی آیت کو بنیاد بنایا گیا ہے وہ خواتین کی قانونی خود مختاری کو نہ محدود کرتی ہے اور نہ ہی اسے ختم کرتی ہے۔ تمام اسلامی مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین اپنے مالی اور معاشی معاملات پر قانونی عملداری رکھتی ہیں۔’
فروغ نسیم پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو گمراہ کر کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا غلط استعمال کیا ہے اور عدالت کو پاکستانی خواتین کی قانونی حیثیت کے حوالے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ سول سوسائٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘محمڈن لا کے نامور سکالر جسٹس سید امیر علی نے اپنی قانون کی کتاب میں لکھا ہے کہ جب فریق ایک دوسرے سے معاہدہ کریں تو وہ اپنی اپنی حیثیت میں آزاد ہوتے ہیں۔ اسی طرح خاتون کی قانونی حیثیت اپنے خاوند کی قانونی حیثیت کے تابع نہیں ہے، وہ اپنی دولت اور جائیداد پر مکمل آزادانہ حق رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر سکتی ہے۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں کے موقف کے مطابق کوئی بھی قانونی ماہر چہ جائیکہ سپریم کورٹ کا وکیل جو کہ حکومت کی نمائندگی کر رہا ہو، ان قانونی حقوق سے ناواقف نہیں ہو سکتا اور نہ ہی فقہ سے انجان ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حکومتی وکیل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘فروغ نسیم کیا بھول چکے ہیں کہ غیرمسلم خواتین بھی پاکستان کی شہری ہیں اور ان کو بھی پاکستانی قوانین اور آئین کے تحت حقوق حاصل ہیں۔ ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دیے جانے والے ان دلائل کی کوئی قانونی یا مذہبی حیثیت نہیں ہے اور یہ سپریم کورٹ کو گمراہ کرکے معاملے کو مشکوک بنانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
سول سوسائٹی نے اپنے بیان میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگلی سماعت میں فروغ نسیم اپنے ان بے بنیاد اور غیر آئینی بیانات پر عوامی طور پر معافی مانگیں اور سپریم کورٹ میں پاکستان خواتین کو حاصل قانونی اور آئینی حقوق سمیت مالی اور معاشی حقوق کو تسلیم کریں۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہ کرنے کا صدارتی ریفرنس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔12 جون کو اس معاملے پر سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے حکومتی وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا تھا کہ ‘صرف ایک بات بتا دیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ٹیکس ریٹرنز جمع کراتی ہیں یا نہیں۔ اگر ٹیکس رٹرنز جمع نہیں کراتیں تو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ خود کفیل کیسے ہیں اور اگر جمع کرواتی ہیں تو پھر وہ خود کفیل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس قانون تو تمام شہریوں کے لیے ہے۔ جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ‘میری معلومات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ٹیکس ریٹرنز جمع کرواتی ہیں، لیکن سپریم جوڈیشل کونسل میں ٹیکس سے متعلق کارروائی نہیں ہوتی۔ اس موقع پر فروغ نسیم نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے فروغ نسیم کو مخاطب کر کے کہا کہ ‘اس آیت کا شان نزول بھی بتا دیں۔ آپ کو پتہ ہی نہیں یہ آیت کیوں نازل ہوئی تھی۔ جسٹس قاضی امین الدین نے بھی ریمارکس دیے تھے کہ ‘آپ ہمیں خطرناک صورت حال میں دھکیل رہے ہیں، یہ آیت کیس سے متعلقہ نہیں ہے۔’
