فلسطین کی ٹرمپ کے امن منصوبے پر اسرائیل، امریکہ کو وارننگ

فلسطینی اتھارٹی (پی اے) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبہ لانے کے اعلان پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں جس کو ہمارے عوام قبول نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، فلسطینی عوام اور قیادت کی منظوری کے بغیر کسی امن معاہدے کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ سنجیدہ ہیں اور پورے خطے میں استحکام چاہتے ہیں تو یہ واحد راستہ ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران امن منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے تسلیم کیا تھا کہ فلسطینی اس منصوبے پر ابتدائی طور پر منفی ردعمل دے سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت میں ان کے لیے مثبت ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فوری طور پر ٹرمپ کی دعوت کو قبول کرلیا اور کہا کہ یہ ایک عظیم منصوبہ ہے، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو حقیقی معنوں میں کارآمد ہوگا۔ادھر غزہ پٹی میں حکمران جماعت حماس کے ترجمان فوضی بارہوم کا کہنا تھا کہ امریکا عملی طور پر حقیقت کو تبدیل کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے لوگ اس کو قبول نہیں کریں گے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے’۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔
