فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا

پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاست میں عدم مداخلت کی بار بار کی یقین دہانیوں اور فوجی ترجمان کے اعلانات کے باوجود سینیٹ کے حالیہ الیکشن اور عمران خان کے لیے اعتماد کے ووٹ کے دوران ایجنسیوں نے کپتان کے امیدواروں کو جتوانے اور وزیراعظم کو بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جس کے بعد سے اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے موجودہ سیاسی تناؤ کے دوران حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کا سب سے بڑا ثبوت 3 مارچ کے روز یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی عمران خان سے ملاقات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے اس ملاقات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کھونے والے وزیراعظم کے ساتھ اعتماد کے ووٹ سے ایک دن پہلے فوجی قیادت کی ملاقات نہایت غیر مناسب اور غیر ضروری تھی جسکا بنیادی مقصد اپوزیشن کو یہ تائثر دینا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اس ملاقات کے بعد نہ تو آئی ایس پی آر کی جانب سے اور نہ ہی وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے کوئی پریس جاری کی گئی۔ تاہم عمومی تاثر یہی تھا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا گیلانی کے ہاتھوں آئی ایم ایف کے امپورٹڈ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیراعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی پلاننگ تھی۔ یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حکومتی بینچوں نے اسی بائیکاٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کو کھل کر 178 ممبران اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ دلوا دیا جو بعد ازاں تنازعے کا شکار ہوگیا۔
یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے دعوی کیا کہ 6 مارچ کے روز اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کے دوران اسمبلی میں کسی بھی صورت 178 ممبران موجود نہیں تھے اور ہیراپھیری کے ذریعے وزیراعظم کے لیے 178 ممبران کا اعتماد حاصل کرنے کا دعوی کیا گیا۔ داوڑ نے مطالبہ کیا کہ 6 مارچ کے روز قومی اسمبلی میں ہونے والے فراڈ کی تحقیقات کرائی جائیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ لگایا جائے کہ اس دن قومی اسمبلی میں کتنے ممبران موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ محسن داوڑ کے مطابق 178 ارکان اسمبکی موجود ہی نہیں تھے، لیکن ووٹ 178 کے ڈلوا دیئے گے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادی ممبران کی تعداد 180 بنتی ہے۔ محسن داوڑ کے مطابق فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد 179 ممبران رہ جاتے ہیں۔ پھر ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کالعدم ہونے کی وجہ سے پیچھے 178 ممبران باقی بچے۔ 7 مارچ کے روز ایک آزاد امیدوار اسمبلی نہیں پہنچا جس کے بعد ممبران کی تعداد 177 تک گئی۔ چونکہ سپیکر قومی اسمبلی اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتا لہذا باقی بچے 176 ممبران اسمبلی۔ لیکن اعتماد کے ووٹ کے دن بی این پی کے چار اراکین بھی اسمبلی سے غیر حاضر تھے۔ یوں 172 ممبران اسمبلی باقی بچے لہذا سوال یہ یے کہ عمران خان نے 178 ممبران کے ووٹ کیسے حاصل کر لیے۔؟
7 مارچ کے روز قومی اسمبلی سے عمران خان کے لیے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کے دوران فراڈ کے الزامات کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بیان سے بھی تقویت پہنچتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں تحریک اعتماد کے روز تحریک انصاف کے 3 اراکین قومی اسمبلی کے لاپتا ہونے پر شور مچا ہوا تھا۔ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ جس دن قومی اسمبلی میں عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینا تھا، اُس صبح ہمارے تین اراکین قومی اسمبلی لاپتا ہوگئے تھے جس پر شور شرابا مچا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں قومی اسمبلی 11 بجے پہنچا تب تک ان تینوں اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا۔ سینیٹ انتخاب میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کی ناکامی پر شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ ’ہم نے سینیٹ کے انتخاب کو ہلکا لے لیا تھا جس وجہ سے آصف زرداری بڑا گیم کھیل گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 16 لوٹوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ عمران خان کریں گے لیکن ابھی وقت نہیں آیا کہ یہ کارروائی عمل میں لائی جائے کیوں کہ اگر ہم 20 افراد کو بے دخل کرتے ہیں تو حکومت اکثریت کھو دے گی اور اپوزیشن اقتدار پر قابض ہو جائے گی۔ کام شیخ رشید نے الزامات کی تردید کی کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سینیٹ الیکشن اور وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
لیکن دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے الزام لگایا کہ عمران خان کو ووٹ دینے کے لیے ایجنسیوں نے اراکین قومی اسمبلی کو مجبور کیا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نے کہا اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ 7 مارچ کے روز دھونس، جبر اور غنڈہ گردی سے اعتماد کا ووٹ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایجنسیوں اور اداروں کو استعمال کرکے جس طرح اعتماد کا ووٹ زبردستی اور اپنے اراکین کی گردنوں پر تلواریں رکھ کر لیا گیا، اس کی کوئی قانونی، سیاسی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ مریم نے کہا کہ جس مضحکہ خیز انداز میں جعلی اعتماد کا ووٹ دلوایا گیا اسکی اصل حقیقیت پاکستان کے عوام جان چکے ہیں۔ ایجنسیوں نے پارلیمنٹ لاجز کو بنکر بنایا ہوا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ اسلام آباد نہیں بلکہ شمالی وزیرستان کا کوئی علاقہ ہے۔ وزیراعظم پر تنقید کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ آپ پوری رات سولی پر لٹک کر اپنے اراکین اسمبلی کو گنتے رہے، ڈرون کیمروں کے ذریعے ایک، ایک رکن کی نگرانی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی جماعت کے سربراہ کے خلاف اپنی ہی جماعت نے عدم اعتماد کر دیا ہو اور وہ شخص وزیر اعظم بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایجنسیوں کو اس سسرے معاملے میں ملوث کیا گیا، ان کی مدد لی گئی اور انہوں نے اراکین کو غائب کیا۔
مریم نواز نے کہا کہ ‘تحریک انصاف کے کئی اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہماری ذاتی علم میں آیا ہے کہ دو اراکین قومی اسمبلی کو، جو کی عمران کو ووٹ دینے کے لیے آخری وقت تک راضی نہیں ہو رہے تھے، گولڑہ میں ایک خفیہ ادارے کے کمپاؤنڈ پر 4 گھنٹے ایک کنٹینر میں بند رکھا گیا۔ ایجنسیوں کے لوگوں کے ہاتھوں انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ عمران خان کو ووٹ دیں۔ مریم کا کہنا تھا کہ عمران نے اپنی شرم ناک شکست کے بعد جس طرح خفیہ ایجنسیوں کو استعمال کیا یہ بڑی قابل شرم بات ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں ایجنسیاں صرف انہی کاموں کے لیے رہ گئی ہیں’۔ مریم نے افسوس کا اظہار کیا کہ جس شخص کو عوام دھتکار رہے ہیں، جو عوام کا مجرم ہے، جس نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، ادارے اور ایجنسیاں اس کو بچانے کے لیے سیاست کر رہی ہیں۔
مریم نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ان حرکتوں کا جواب دینا پڑے گا گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہارے ہوئے، نالائق، نااہل شخص اور قوم کے مجرم کو بچانے پر آپ کو حساب دینا پڑے گا اور قوم آپ سے اس کا جواب مانگے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ اعتماد کا ووٹ ایجنسیوں کو استعمال کرکے، گردنوں پر تلوار رکھ کر، اپنے ہی اراکین کو حبس بے جا رکھ کر زبردستی لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ عمران خان آپ جانتے ہیں کہ آپ کو وقت پورا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب 7 مارچ کو پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کے تحریک اعتماد کی ووٹنگ کے اعداد وشمار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریس میں اکیلے ہونے کے باوجود سلیکٹڈ کو دھاندلی کرنا پڑی۔ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ان کا اندر کا خوف تھا اور ایک مذاق بھی تھا جہاں وہ ریس میں اکیلے تھے لیکن پھر بھی انہیں اعداد و شمار میں دھاندلی کرنا پڑی اور اعتماد کا جعلی ووٹ لینا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کے ووٹنگ میں جو نمبر دکھایا گئے وہ اصلی نہیں تھا۔ محسن داوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں اتنے ممبران اسمبلی ہی موجود نہیں تھے جتنوں کے ووٹ دکھا دیے گے۔ بلاول بھٹو کہا کہ یہ ایک ایسا تنازع ہے، جس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں تاکہ دھاندلی سے برسراقتدار آنے والے سلیکٹڈ کی حکومت دھاندلی سے بچانے کا اصل منصوبہ بے نقاب ہو سکے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے سے فراڈ کے ذریعے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے الزامات کا کوئی ٹھوس جواب ابھی تک سامنے نہیں آ سکا۔
