فوجی قیادت فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس کیوں نہیں دیکھنا چاہتی؟

بار بار ناکامی کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2023 میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ایما اور وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس مسترد ہو گیا تھا جس کے بعد اب پاکستان میں آزاد عدلیہ کے علامت سمجھے جانے والے سینئر ترین جج کو ہٹانے کے لئے لئے نئی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدر علوی کا ریفرنس مسترد ہونے کے بعد اپنی پہلی نظر ثانی پٹیشن بھی خارج ہونے کے باوجود کپتان حکومت نے اب ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مزید نظرثانی درخواست یعنی کیوریٹیو ریویو پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وفاق نے 25 مئی کو سپریم کورٹ میں کیوریٹیو پیٹیشن دائر کی جس پر سپریم کورٹ کے دفتر نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ وزارتِ قانون کے مطابق کیوریٹیو پیٹیشن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواست کے فیصلے کے خلاف دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اعتراضات کو دور کرنے کے بعد قانونی ضابطہ کار کے تحت دوبارہ پیٹیشن دائر کر دی جائے گی۔
اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ’وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور نظر ثانی کی درخواست دائر کی کرنے باضابطہ اجازت دے دی ہے۔‘ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کی جانے والی اس نئی نظرثانی درخواست کو کیوریٹیو ریویو کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس سے قبل کیوریٹیو ریویو کی کوئی مثال موجود نہیں ہے البتہ انڈیا میں ایسا دو مرتبہ ہوا ہے۔ نظر ثانی کی اس درخواست میں بنیادی موقف یہ اٹھایا گیا ہے کہ ’اس سے گذشتہ نظرثانی کی درخواست میں ایف بی آر کو ٹھیک طرح سے سنا نہیں گیا۔ معزز عدالت انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔‘ دستیاب معلومات کے مطابق وزیراعظم نے یہ فیصلہ ایک طویل قانونی مشاورت کے بعد کیا کیونکہ وہ اور انکو اقتدار میں لانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کسی بھی صورت 2023 کے اہم ترین سال میں جسٹس فائز عیسی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نہیں دیکھنا چاہتی۔ حکومت کی جانب سے نئی نظرثانی درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایف بی آر کو اجازت دی جائے کہ وہ جج کے خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کر سکے اور سپریم کورٹ کے اولین فیصلے کو بحال کیا جائے جس میں بنچ کے اکثریتی اراکین نے چھان بین کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ‘ اس نئی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 187 کو بھی حوالے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کےمطابق آئین سپریم کورٹ آف پاکستان کو لاامتناہی اختیارات دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر حتی کہ مقدمہ مکمل ہونے کے جانے باوجود دوبارہ سے اس کو سن سکتا ہے اگر اس بات کا احتمال ہو کہ پہلے انصاف کے نقاضے پورے نہیں ہوئے۔
آئینی ماہرین کے مطابق کیوریٹو ریویو کی مثال پاکستان میں باضابطہ طور پر موجود نہیں کہ سپریم کورٹ کے اپنے ہی ایک نظر ثانی کے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کرے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کے مطابق ’کیوریٹیو ریویو کی اصطلاح بنیادی پر ایسے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے جب انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ پاکستان میں اس کی مثالیں موجود نہیں البتہ اس کی کوئی نہ کوئی شکل موجود ضرور رہی ہے۔ میرے خیال میں ایک یا دو مرتبہ ایسا ہوا کہ نئے حقائق سامنے آنے پر کیس دوبارہ کھولا گیا لیکن اس کے لیے یہ اصطلاح استعمال نہیں ہوئی۔ البتہ انڈیا میں ایسی نظیر ملتی ہے کہ سپریم کورٹ میں باضابطہ طور پر کیوریٹیو ریویو کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو دوبارہ نظر ثانی کے لیے کہا گیا تھا۔‘
ممتاز قانون دان اور آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ سمجھتے ہیں کہ ’نظرثانی بذات خود ایک کیوریٹیو عمل ہے۔ کیوریٹیو کا لفظ انگریزی زبان کے لفظ ’کیور‘ سے نکلا ہے جس کا معنی ہے بیماری کا علاج ہونا، مندمل ہونا۔ جیسے کوئی دوا کسی بیماری کا علاج ہے۔ میرے خیال میں جب نظرثانی دائر کی جاتی ہے تو اس کے مفہوم میں کیوریٹیو پہلے سے ہی موجود ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نظرثانی پر دوبارہ نظرثانی پر قانون کیا کہتا ہے؟‘
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدر پاکستان عارف علوی نے ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے معزز جج کے خاندان نے غیر قانونی طریقے سے پیسہ ملک سے باہر بھیجا ہے اور ان کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے لہذا انہیں جج کے منصب سے ہٹایا جائے۔ سپریم کورٹ کے 10 رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ان کے خلاف جاری کونسل کی کاروائی ختم کر دی تھی اور صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ البتہ اس کے ساتھ بنچ کے اکثریتی اراکین نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے اثاثوں کی چھان بین کے لئے ایف بی آر کو حکم دے دیا۔ اس فیصلے کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کردی اور سپریم کورٹ نے جائیداد کی چھان بین کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور ایف بی آر کو تحقیقات سے روک دیا تھا۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے اس فیصلے کو ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد قاضی فائز عیسی کو چیف جسٹس بننے سے روکنا ہے۔
الجہاد ٹرسٹ کیس میں طے کیے گئے اصول کی روشنی میں 17 اگست 2023 کی صبح وہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان کورٹ روم نمبر ون میں موجود ہوں گے اور اس منصب پر فائز ہونے کے لیے انہیں وزیر اعظم یا صدر محترم میں سے کسی کی تائید، اجازت اور آشیرباد کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی نہیں ہوتی نہ ہی کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار ہے کہ دو یا تین ناموں سے کسی ایک کو بطور چیف جسٹس منتخب کر لے اور نہ ہی یہاں ایکسٹینشن کی گنجائش موجود ہے۔
یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر سینیارٹی لسٹ میں جو ان کے بعد ہو گا وہ یہ منصب سنبھال لے گا۔ چنانچہ آج ہی سب کو معلوم ہے کہ جناب جسٹس گلزار احمد دو فروری 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کی جگہ یہ منصب سنبھالنے والے جسٹس جناب عمر عطا بندیال 16 اگست 2023 کو ریٹائر ہو جائیں گے اور 17 اگست کو جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2023 بڑا اہم اور بڑا نازک سال ہو گا کیونکہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2023 تک ہے۔ یعنی جسٹس قاضی کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے سے صرف تین دن پہلے اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ جس کے 90 دن کے اندر عام انتخابات ہونے ہوتے ہیں۔ گویا آئندہ عام انتخابات کے وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ انتخابی عمل کی الف ب سے آگہی رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہو گا۔ آسان تفہیم کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ کم از کم آر ٹی ایس کے ’تشریف فرما‘ ہو جانے یعنی بیٹھ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ لہذا ایسے نازک موقع پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں ہی یہ برداشت نہیں کریں گے قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر براجمان ہوں۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2023 تک فوجی اسٹیبلشمنٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے باہر کرنے کے لیے اپنے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے گی۔
