فیض کے جاتے ہی سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کاامکان


پارلیمینٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے لیکن اسکی ٹائمنگ کا فیصلہ موجودہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے 19 نومبر کو تبادلے کے بعد طے ہوگا۔ اگر اپوزیشن جماعتوں کی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو ثابت ہو جائے گا اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کو ملکی سیاسی منظر نامے میں نیوٹرل رہنے کی جو یقین دہانی کروائی ہے، اس پر عمل شروع ہوچکا ہے۔ اپوزیشن بھی چیک کرنا چاہتی ہے کہ کیا اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل ہو چکی ہے؟ لہذا اگر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو اگلے مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور پھر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد تحریکیں لائی جائیں گی اور آخر میں عمران خان کو فارغ کرنے کا منصوبہ تیار ہو گا۔
اس حوالے سے انگریزی اخبار ڈان کے ایڈیٹر فہد حسین اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے مجوزہ ‘آپریشن سنجرانی’ کے پیچھے منطق کچھ یوں ہے کہ سنجرانی کی تینوں فتوحات – پہلی بار چیئرمین سینیٹ منتخب ہونا، تحریکِ عدم اعتماد ناکام بنانا اور پھر دوسری بار چیئرمین سینٹ منتخب ہونا – یہ سب کچھ براہ راست اسٹیبلشمنٹ کا مرہونِ منت تھا۔ تب فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ عمران حکومت کے ساتھ ایک ہی صفحے پر موجود تھے اور انہی کی حمایت کی وجہ سے اپوزیشن کے ووٹ بھی اڑن چھو ہو کر جادوئی انداز میں حکومتی امیدوار کو پڑ گئے۔ لیکن گذشتہ ماہ سے چلنے والی تازہ ہوا غیر جانبداری کی سوندھ لے کر آئی ہے۔ فہد کے مطابق اگر تو اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے حکومتی حمایت سے پیچھے ہٹتی تو اس کی باریک سی برتری تحریکِ عدم اعتماد کی صورت میں ختم ہو جائے گی اور اگر رات گئے کوئی جادوئی فون کالز نہ کی گئیں تو اعداد کا کھیل اپوزیشن والے جیت جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو سنجرانی کو شکست ہو جائے گی۔ اگر ان کو شکست ہو گئی تو یہ پہلی واضح علامت ہوگی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعتاً غیر جانبدار ہو چکی ہے۔ اس کا پھر یہ بھی مطلب ہوگا کہ وزیر اعظم تنہا ہو چکے ہیں۔ واقعی تنہا۔ لہٰذا بقول فہد حسین، پیغام یہی ہے کہ ‘آپریشن سنجرانی’ شروع کیا جائے گا۔ اگر اس میں کامیابی ہوئی تو پھر عمران کو نکالنا بھی آسان ہوگا۔ بلکہ پھر تو یہ لازمی ہو جائے گا۔ لہذا پہلے قدم کے طور پر اپوزیشن کو آپریشن سنجرانی پر اکٹھا ہونا ہوگا اور اس حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے۔
لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہے، اور ن لیگ مطالبہ کر سکتی ہے کہ اگلا چیئرمین اسکا کوئی سینیٹر ہونا چاہیے۔ اگر پیپلز پارٹی اس پر مان گئی اور مسلم لیگ ن سینیٹ چیئرمین کا عہدہ لینے میں کامیاب ہو گئی تو ملکی سیاست سے متعلق تاثر یکسر تبدیل ہو جائے گا۔
فہد حسین یاد دلاتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ سنجرانی بھی ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں حالانکہ کاغذوں پر ہی سہی، سینیٹ میں اس وقت اپوزیشن کی اکثریت ہے۔ تمام تر نامساعد صورت حال کے باوجود انہوں نے ایک عدد تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنایا اور پھر تمام تر نامساعد صورتحال کے باوجود ہی دوسری مرتبہ سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔ لیکن سوال یہ یے کہ کیا اب حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں؟ کیا بلی کی نو زندگیاں مکمل ہو چکی ہیں؟ اس کا پتہ بہت جلد چل جائے گا کیونکہ اپوزیشن تیسری دفعہ کے لئے چھریاں تیز کر رہی ہے۔ ‘آپریشن سنجرانی’ بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔ اس کا ایک اشارہ حال ہی میں تب ملا جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے پیپلز پارٹی کی علیحدگی کے بعد پہلی مرتبہ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان قریب آتے ہوئے دکھائی دیے۔ بقول فہد، پی ڈی ایم کے عملاً ٹوٹنے کے بعد سے متحدہ اپوزیشن اتنی متحدہ نہیں رہی تھی، گو کہ غیر رسمی تعاون پارلیمنٹ کے اندر جاری رہا ہے۔ لیکن گذشتہ ماہ وزیر اعظم اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں پیدا ہونے والے تناؤ کے بعد سے جو تازہ ہوا اسلام آباد میں چلی ہے، اس کی خوشبو میں ایسی مٹھاس ہے کہ اپوزیشن کی سانسوں میں یہ مٹھاس گھل رہی ہے۔ اسے ایک موقع کی بو آ رہی ہے۔ ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن بہت لوگ اس پر متفق ہیں۔ یہاں تک کہ سنجرانی کی شکست کی صورت میں کچھ ممکنہ امیدواروں پر بھی بات چیت کی جا چکی ہے۔
فہد کے مطابق فیصلہ نہ ہونے کی وجہ یہ خوف ہے کہ ایک مرتبہ پھر ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ل کیونکہ اس مرتبہ ناکامی کے نتائج میں صرف سنجرانی کو چیئرمین کے عہدے سے گھسیٹ کر ہٹانا شامل نہیں۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہوگا کہ ایک کمزور نظر آتی حکومت کے خلاف اپوزیشن کا زور ٹوٹ جائے گا، اور یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ بیشک وزیر اعظم تنہائی کا شکار ہے لیکن مکمل طور پر تنہا نہیں۔ اسی لیے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا حتمی وقت موجودہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے 19 نومبر کو تبادلے کے بعد طے ہوگا۔ دوسرا مرحلہ بلوچستان عوامی پارٹی کی سن گن لینا ہوگا۔ سنجرانی اس جماعت کے رکن ہیں لیکن جام کمال کے خلاف پارٹی کے اندر ہوئی بغاوت نے جماعت کو تقسیم کر دیا ہے۔ بہت سے اراکین کو خار ہے۔ اپوزیشن یہ جانتی ہے۔ تاہم، اس کو بہت محتاط ہو کر دیکھنا ہوگا کہ BAP کے کچھ اراکین ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ تیسرا مرحلہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین کے امیدوار پر فیصلے کا ہوگا۔ چونکہ پیپلز پارٹی کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہے، مسلم لیگ ن مطالبہ کر سکتی ہے کہ اگلا چیئرمین اس کا کوئی سینیٹر ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کا اتفاق رائے سے حل نکلنا ضروری ہے۔
لیکن بقول فہد حسین ہمیشہ کی طرح، کچھ پیچیدگیاں موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سنجرانی نے حال ہی میں بلوچستان میں ایک بغاوت کامیاب کروائی ہے۔ قدوس بزنجو کا وزیر اعلیٰ بننا دراصل سنجرانی کی فتح تھی۔ کم از کم دیکھنے کی حد تک وہ اب تک کامیابی کے رستے پر ہیں کیونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر بلوچستان میں یہ تبدیلی ممکن نہ ہوتی؟ لہٰذا اپوزیشن میں سے جس کسی کو بھی لگ رہا ہے کہ اسٹیبشلمنٹ اب سنجرانی کو تنہا چھوڑ دے گی، وہ عدم اعتماد لانے کا خطرہ دیکھ بھال کر مول لے۔ صادق سنجرانی وزیر اعظم کا اتحادی ہے لیکن ان کا آدمی نہیں ہے۔ حالیہ سالوں میں وہ چیئرمین بننے کے بعد سے اپنے آپ میں ایک اہم مصالحت کار بن کر ابھرے ہیں۔ جام کمال کے نکالے جانے کے بعد سے ان کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب بلوچستان کے فیصلے بھی ان کے دفتر سے ہونے لگے ہیں۔ اب وہ بہت سے لوگوں کے لئے بہت ہی کام کے آدمی بن چکے ہیں۔ لہذا اتنی آسانی سے سنجرانی کو گھر بھیجنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

Back to top button