ثاقب نثار کے الزامات کی تردید،جسٹس رانا شمیم اپنے بیان پر قائم

گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی انصار عباسی سے کی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں ، حلف نامہ کب اور کس کو دیا یہ ابھی نہیں بتا سکتا ، اس واقعے کے وقت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے۔

گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے ایکسٹینشن دینے والے، مجھے توسیع مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی، ان کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا اختیار ہی نہیں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس کے ماتحت نہیں ہیں ۔

خیال رہے کہ ایک معروف صحافی نے خبر دی ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے حلف نامہ جمع کرایا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل نوٹرائزڈ حلف نامے کیساتھ منسلک ہے۔رانا شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبرکو دیا تھا۔

گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنے چاہئیں جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا“۔

Back to top button