ثاقب نثار نے جسٹس رانا شمیم کے الزامات مستر کر دئیے
سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے نواز شریف،مریم نواز کو عام انتخابات کے دوران جیل میں رکھنے سے متعلق رپورٹ مسترد کر دی ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرکے من گھڑت قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے میاں ثاقب نثار پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے کی ہدایات دینے کا الزام لگایا تھا۔
’دی نیوز‘ میں صحافی انصار عباسی کی تحقیقاتی رپورٹ میں رانا شمیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ رانا شمیم نے مبینہ حلف نامے میں بتایا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے جج کو کرپشن ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے حوالے سے واضح ہدایات دی ہیں۔
گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے مبینہ حلف نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے ’بہت پریشان‘ دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔
گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے بتایا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنا چاہئے، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔
گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔ ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو ’خود ساختی کہانی‘ قرار دیا اور کہا کہ میں نے میاں صاحب کے معاملے کے حوالے سے کسی جج سے کوئی بات نہیں کی ہے ۔
ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انہیں رانا شمیم سے صرف وہ گفتگو یاد ہے جب انہوں نے انہیں ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے بلایا تھا ، اس وقت انہوں نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا جبکہ ان کی ان دعووں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے ، یہ دعوے ’بالکل بےبنیاد‘ ہیں۔سابق چیف جسٹس نے معاملے پر عوامی سطح پر بیان جاری نہ کرنے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ’میں کیوں کروں؟ میں ان کی سطح پر نہیں جھکنا چاہتا ہوں۔
دوسرئ طرف مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے رپورٹ کو نواز شریف اور مریم نواز ’کی بے گناہی کا ایک اور ثبوت‘ قرار دے دیا ہے ۔ شہباز شریف نے بتایا کہ رپورٹ نے ملازمین کی گرینڈ اسکیم سے پردہ اٹھا دیا ہے جس کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کی بیٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ’گھناؤنی سازشیں کرنے والوں کو اللہ بے نقاب کر رہا ہے۔
