نواز،مریم بارے انکشافات:جج رانا شمیم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
سابق وزیراعطم نوازشریف اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق سابق جج کے انکشافات کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے مختصر سماعت میں کہا کہ اگر اس عدالت کے غیر جانبدارانہ فیصلوں پر اسی طرح انگلی اٹھائی گئی تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق جج رانا شمیم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل 16 نومبر کو طلب کر لیا ۔سوموار کی سہ پہر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معروف صحافی انصار عباسی کی خبر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس کے دوران چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو کمرہ عدالت میں طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہاں پر آپ کے سامنے بہت سارے کیسز زیر سماعت ہیں کوئی انگلی اٹھا کربتائے ، مجھے اس عدالت کے ہر جج ہر فخر ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس قسم کی رپورٹنگ سے مسائل پیداہوں گے۔ اس عدالت نے ہمیشہ اظہار رائے کی قدر کی ہے اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے۔یہ عدالت آپ سب سے توقع رکھتی ہے کہ لوگوں کا اعتماد اداروں پر بحال ہو۔ زیر سماعت کیسسز پر اس قسم کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہئے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیوں نہ ہائیکورٹ کا وقار مجروع کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغازکریں؟ ایک معاملہ زیر التوا ہے اس میں اس طرح کی رپورٹنگ ہوگی تو یہ کوئی مناسب بات ہے؟عدالت اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے گی کیونکہ زیر التوا کیسز پر بات کرنے کی روش بن گئی ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جبکہ جس صحافی نے خبر دی اس کو اور جنگ اخبار کے ایڈیٹر انچیف کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے ، جب ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ہے تو اس موقع پر ایسی خبر کی اشاعت سماعت پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ جوڈیشل ریکارڈ میں ایسے کسی بیان حلفی کا ذکر نہیں ، ایسے موقع پراس طرح کی خبر کی اشاعت توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے رانا شمیم کے بیان حلفی کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے صحافیوں کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم کا بیان حلفی سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔
واضح رہے کہ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے ۔ کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021 کو دیا تھا۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رانا شمیم بطور چیف جسٹس جی بی اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے لیکن رانا شمیم کو توسیع دینے سے انکار کر دیا گیا ۔ ثاقب نثار کے بقول رانا شمیم نے توسیع نہ دینے پر شکوہ بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف خبریں کون چلواتا ہے سب معلوم ہے۔ گذشتہ دنوں ایک تعلیمی ادارے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ رانا شمیم کا بیان میری تقریر کا ردعمل لگتا ہے۔
سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے رانا شمیم نے صحافی مریم نواز سے گفتگو میں وضاحت کی کہ صحافی انصار عباسی سے کی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے ایکسٹینشن دینے والے ، مجھے ایکسٹینشن کی کوئی ضرورت نہیں۔
سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان سپریم کورٹ رانا شمیم نے بتایا سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے میں نے ان کے آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا ۔ قانوناً گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سپریم کورٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے ماتحت نہیں ہیں۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے ، رانا شمیم نے 10 نومبر والے حلف نامے کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر کہا کہ حلف نامہ کب اور کس کو دیا یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔
خبر منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’اندازہ لگائیں کے آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں وہ آگے سے فون ملا کر بیٹھا ہو اور آپ کے سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کہ کسی ملزم کی ضمانت لینی ہے یا نہیں لینی! ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ملک کا وزیراعظم ہو۔‘
