کیا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی جلد ہونے والا ہے؟


پاکستان کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ گزشتہ سات برس سے بلاوجہ لٹکائے جانے والے تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی اب جلد آ سکتا ہے جو کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اس کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی سکروٹنی کے عمل کے دوران تحریک انصاف کے مالی معاملات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کو دائر ہوئے 7 سال پورے ہو گئے۔ اس کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کہتے ہیں کہ عمران خان کو مقدس گائے بنا کر بچانے کی کوشش میں ملکی معیشت تباہ کر دی گئی ہے۔ اگر عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوتے تو آج ملک میں ایک بہتر قیادت برسر اقتدار ہوتی اور معاشی تباہی نہ ہوتی۔ اکبر ایس بابر کے بقول پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا لٹکایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقتور کو واقعی قانون کے نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اور عمران خان کے سابق معتمد اکبر ایس بابر نے 14 نومبر 2014 کو یہ کیس دائر کیا تھا جس میں پی ٹی آئی پر غیر قانونی ذرائع سے پیسہ جمع کرنے، پارٹی کی فنڈنگ الیکشن کمشن سے چھپانے، پارٹی فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کرنے اور کرپشن کے شواہد پیش کئے گئے تھے۔ الیکشن کمشن نے پی ٹی آئی کے حسابات اور دیگر کھاتوں کی چھان بین کے لئے ایک سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی تھی جو تین سال گزرنے کے بعد پٹیشنر اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈز تک محدود رسائی دینے پر آمادہ ہوئی۔ پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈز کی چھان بین کرنے والے غیر جانبدار مالیاتی ماہرین نے شواہد، ثبوتوں اور مالیاتی جائزے پر مبنی تقریبا 100 صفحات پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی تیار کی جسے غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر نے 13 جولائی 2021 کو الیکشن کمشن آف پاکستان میں باضابطہ طورپر جمع کرایا۔ اس رپورٹ کے ہمراہ انہون نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط بھی فیس تھا جس میں کہا گیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے لہذا اسے تحلیل کیا جائے اور الیکشن کمشن بذات خود اس کیس کی جلد ازجلد سماعت کرکے فیصلہ دے۔
الیکشن کمشن کی سکروٹنی کمیٹی نے دو رکنی غیر جانبدار مالیاتی ماہرین کو پی ٹی آئی کے مالیاتی حسابات اور بنک اکاونٹس کی جانچ پڑتال کے لئے 55 گھنٹے کا وقت دیا تھا جس کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی تھی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں پیش کردہ حقائق کے مطابق پی ٹی آئی کے غیرقانونی چندے کی مالیت 2 ارب 20 کروڑ 12 لاکھ 22 ہزار 482 روپے ہے۔ یہ غیرقانونی رقم صرف پی ٹی آئی کے اپنے جمع کرائے ہوئے ریکارڈ سے برآمد ہوئی ہے جبکہ مجموعی رقم کا تخمینہ تمام ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے سامنے آئے گا۔
اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمشن میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ہمراہ جمع کرائے گئے خط میں کہا گیا کہ جو کام سکروٹنی کمیٹی نے ساڑھے تین سال میں مکمل نہیں کیا وہ 2 غیرجانبدار مالیاتی ماہرین نے 55 گھنٹے میں مکمل کردیا جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ سکروٹنی کمیٹی دباو اور بدنیتی کی وجہ سے یہ کام ساڑھے تین سال میں بھی مکمل نہ کر سکی حالانکہ یہ کام اسے صرف ایک ماہ کی مدت میں مکمل کرنا تھا۔ الیکشن کمشن کو جمع کروائی گئی غیر جانبدار مالیاتی ماہرین کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی ٹی آئی کا فراہم کردہ ریکارڈ مستند نہیں کیونکہ اس نے اصل ریکارڈ اور دستاویزات فراہم نہیں کیں۔ جو فوٹوکاپیز فراہم کی گئیں، ان پر نہ تو کسی کے دستخط تھے، نہ ہی وہ تصدیق شدہ تھیں اور نہ ہی ان پر کسی کی مہر لگی ہوئی تھی۔ بنک سٹیٹمنٹس کسی لیٹر ہیڈ کے بغیر فراہم کی گئیں اور ان پر نہ تو دستخط تھے اور نہ ہی مہر تھی۔ عطیات دینے والوں کی فہرست پر بھی کسی کے دستخط نہیں تھے اور نہ ہی یہ تصدیق شدہ تھی۔ لہذا یہ رپورٹ پی ٹی آئی کی مالی بے ضابطگیوں کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔
غیرجانبدار ماہرین کے تجزیے اور جانچ پڑتال کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو مجموعی طور پر ہونے والی غیرقانونی فنڈنگ کا تخمینہ مالیت2 ارب 20 کروڑ 12 لاکھ 22 ہزار 482روپے لگایا گیا ہے۔ یہ غیرقانونی فنڈنگ پی ٹی آئی کے الیکشن کمشن میں جمع کرائے گئے اپنے ریکارڈ سے برآمد ہوئی۔ یہ غیرقانونی رقم ڈالرز اور روپے کی شکل میں سامنے آئی اور یہ رقم دینے والوں میں غیرملکی شہری ، غیرملکی کمپنیاں اور پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں۔
سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے 28 بنک اکاونٹس کی ایک فہرست بھی مرتب کی جو الیکشن کمشن کے حکم پر براہ راست ملک بھر کے بنکوں اور مالیاتی اداروں سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ سکروٹنی کمیٹی کی مرتب کردہ فہرست میں پی ٹی آئی کے 28 بنک اکاونٹس میں سے 5 اکاونٹس کو مختلف بہانوں سے پی ٹی آئی نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق جانچ پڑتال کے عمل کے دوران پی ٹی آئی کے 5 مزید خفیہ بنک اکاونٹس کا انکشاف بھی ہوا جنہیں تحریک انصاف نے اپنی بنک سٹیٹمنٹس میں ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی ان بنک اکاونٹس کی سٹیٹمنٹس ہی فراہم کی گئیں۔ ان خفیہ بنک اکاونٹس میں تقریبا 16 کروڑ11 لاکھ روپے کی رقم ظاہرشدہ بنک اکاونٹس سے منتقل کی گئی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ پی ٹی آئی نے قانون کے مطابق اپنے تمام بنک اکاونٹس الیکشن کمشن میں ظاہر نہیں کئے یعنی انہیں چھپایا یا خفیہ رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ثابت ہوا کہ 2009 سے لے کر 2013 تک پی ٹی آئی نے ہر سال اپنے 16 بنک اکاونٹس کو خفیہ رکھا۔
فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کا دعویٰ ہے کہ عمران خان، انکے کزن سینیٹر سیف اللہ نیازی اور پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماوں کے نام اس خوف سے دانستہ خفیہ رکھے گئے ہیں تاکہ ان اکاونٹس میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کا ذمہ دار انہیں نہ ٹھہرایا جاسکے۔ رپورٹ میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ تقریبا 26 ملین روپے کی نقد رقم پارٹی چئیرمین عمران خان کے دفتر میں براہ راست جمع کرائی گئی جسکی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کی صورت میں نہ صرف تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اس صورت میں وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ سینیٹرز بھی اپنے عہدوں سے نااہل قرار پائیں گے۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں جس طرح پاکستان میں تیزی سے فضا سیاسی فضا تبدیل ہو رہی ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بہت جلد آ سکتا ہے جس کے نتیجے میں کپتان اینڈ کمپنی کے گھر جانے کا واضح امکان ہے۔

Back to top button