قدوس بزنجو دوبارہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بننے کو تیار


وزیراعلی بلوچستان جام کمال کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والے قسمت کے دھنی اور جوڑ توڑ کے ماہر 47 سالہ میر عبدالقدوس بزنجو ایک بار پھر سپیکر شپ چھوڑ کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے جا رہے ہیں۔
25 اکتوبر کو اپنوں اور بیگانوں دونوں کے عتاب کا شکار وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کی بجائے استعفیٰ دینے کے بعد بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ کےلئے منحرفین کے سرکردہ رہنما میر عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ قائم مقام صدر بلوچستان عوامی پارٹی ظہور احمد بلیدی نے بھی عبدالقدوس بزنجو کے نام کی تصدیق کر دی ہے۔ ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی نئے قائد ایوان کیلئے مشاورت کریں گے۔دوسری جانب منحرف اراکین میں شامل سابق صوبائی وزیر عبدالرحمٰن کھیتران کا کہنا ہے کہ تمام اتحادی جماعتوں نے عبدالقدوس بزنجو کو آئندہ وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہے۔ قدوس بزنجو کو بی این پی، بی این پی عوامی، جے یو آئی اور بی اے پی کے ناراض اراکین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور آنے والی حکومت میں ان تمام جماعتوں اور دھڑوں کے افراد شامل ہوں گے۔
خیال رہے کہ عبدالقدوس بزنجو سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ازلی مخالف تھے تاہم اقتدار کی مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے سپیکر شپ قبول کر لی تھی۔ بلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان عالیانی کی صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا کیونکہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا تھا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17 اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن کے 16 ارکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی تاہم گورنر ہاؤس سیکریٹریٹ نے تکنیکی وجوہات کے سبب تحریک بلوچستان اسمبلی کو واپس کر دی تھی۔ اس ماہ کے اوائل میں بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ میں 14 اراکین اسمبلی کے دستخط کی حامل تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی کیونکہ عالیانی کو اپنی پارٹی کے ناراض اراکین کی مستقل تنقید کا سامنا تھا جن کا ماننا ہے کہ وزیراعلیٰ حکومت کے امور چلانے کے لیے ان سے مشاورت نہیں کرتے۔
اپنی مخالفت کے بعد وزیراعلیٰ جام کمال نے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔ جام کمال خان نے اقتدار بچانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی لیکن مرکز سے بھی جواب سننے کو ملا تو بالآخر 25 اکتوبر کو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے قبل استعفا دے دیا۔ اس ڈویلپمنٹ کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی عہدہ چھوڑ دیا ہے کیونکہ نئے وزیر اعلی کے طور پر ان کے نام پر اتفاق ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں عبدالقدوس بزنجو کا تعلق مسلم لیگ ق سے رہا ہے اور وہ ن لیگ میں سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے منحرف اراکین اور ق لیگ کے متفقہ امیدوار تھے۔ یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے گزشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن کے سردار ثناء اللہ زہری کو وزارتِ اعلیٰ سے فارغ کرکے میر عبد القدوس بزنجو صوبہ بلوچستان کے سولہویں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے 13 جنوری 2018ء سے 8 جون 2018ء تک وزیراعلیٰ کے طور پر فرائض انجام دیے۔
عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران سے ہے۔ وہ اسی ضلع کی تحصیل جھاؤ میں 1974 میں پیدا ہوئے۔ پہلی مرتبہ وہ 2002 میں ضلع آواران پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 41 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ قدوس 2002 سے2007 تک وزیر لائیو سٹاک رہے۔ 2013 کے انتخابات میں وہ دوبارہ ضلع آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ مسلح تنظیموں کی انتخابات کے حوالے سے دھمکیوں کے باعث آواران میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر 6 سو سے زائد ووٹ پڑے تھے۔ قدوس بزنجو کو ان میں سے 544 ووٹ ملے تھے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کامیاب امیدوار کو پڑنے والے سب سے کم ووٹ ہیں۔ تاہم اب 544 ووٹ حاصل کرنے والے قدوس بزنجو بلوچستان کے وزیر اعلی بننے جارہے ہیں۔

Back to top button